لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے راحت بیکری کے باہر جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں مراد سعید سمیت 7 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے جج محمد نوید اقبال نے کیس کی سماعت کے دوران 7 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔

اشتہاری قرار دیے گئے دیگر ملزمان میں اعظم خان سواتی، حافظ فرحت، محمد زبیر نیازی، واثق قیوم اور دیگر شامل ہیں۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے خود کو روپوش کر رکھا ہے، ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڈ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

بعدازاں ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

21 دسمبر 2023 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق مقدمے میں مراد سعید، حماد اظہر، فرخ حبیب اور علی امین گنڈاپور سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 51 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

یکم جنوری کو انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ پر حملہ اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق مقدمے میں مراد سعید، حماد اظہر، فرخ حبیب اور علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 51 رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم سنایا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں