عام انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ پارٹی سربراہ نواز شریف اب بھی چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے امیدوار ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت یہ فیصلہ کرنے کے لیے غور و خوض میں مصروف ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار کون ہوگا تاکہ منظوری کے لیے پیپلز پارٹی کے سامنے تجویز رکھی جاسکے۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے لیے نواز شریف کا نام تاحال مسترد نہیں کیا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) کو وفاقی اتحاد کی قیادت کرنی ہے، اس لیے مریم نواز کیمپ کے اندر بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ نواز شریف کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل نواز شریف نے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن 8 فروری کو غیر متوقع نتائج نے انہیں دوبارہ سوچنے پر مجبور کردیا اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا نام وزارت عظمیٰ کے لیے ’فیورٹ‘ کے طور پر سامنے آیا۔

پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک وزارت عظمیٰ کے لیے اپنے امیدوار کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، اتحادیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اس کا فیصلہ ان کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

پارٹی رہنما خواجہ آصف نے نجی ٹی وی چینل ’سما ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف نہیں شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے، اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جوکہ پارٹی کے موقف کی عکاسی نہیں کرتی۔

انہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ ’پاور شیئرنگ فارمولے‘ کے حوالے سے افواہوں کی بھی تردید کی اور کہا کہ مل کر آگے بڑھنے کے لیے اصولی طور پر معاہدہ کیا گیا ہے۔

کون بنے گا وزیراعظم؟

مسلم لیگ (ن) نے پہلے کہا تھا کہ اگر مرکز میں سادہ اکثریت مل جاتی ہے تو نواز شریف وزیراعظم ہوں گے، تاہم 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) 79 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جوکہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ 92 کامیاب آزاد امیدواروں سے کم ہیں، اس تناظر میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے پچھلے مؤقف پر نظرثانی کی اور اعلان کیا کہ وہ مخلوط حکومت بنائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ایک ایسا دھڑا ہے جو سمجھتا ہے کہ مرکز اور سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے نواز شریف کو خود حکومت کی قیادت کرنی چاہیے اور شہباز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہیے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے کہ ان کا وزیراعظم کا امیدوار کون ہوگا، بشرطیکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی اعتراض یا ’ناقابل قبول مطالبات‘ سامنے نہ آجائیں۔

ذرائع نے بتایا کہ شہباز شریف کی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے دوران وزیراعظم کے نام کے لیے نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم کے فارمولے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کئی من پسند عہدے (مثلاً صدر، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ) چھوڑنے اور وزارت عظمیٰ کے بدلے ان عہدوں کو پیپلزپارٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 2 معاملات پر ڈیڈلاک پیدا ہو سکتا ہے، اول اگر پیپلزپارٹی نے بلاول کے لیے وزیراعظم کا عہدہ مانگ لیا اور دوسرا اگر پیپلزپارٹی وزیراعظم کے لیے نواز شریف کے نام پر متفق نہ ہوئی، اگر نواز شریف کو وزیر اعظم کے طور پر منتخب نہیں کیا گیا تو ان کی بیٹی مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے دعویداروں میں سب سے اوپر آجائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ اتنے آزاد امیدوار مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوجائیں کہ اسے پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے پیپلز پارٹی پر انحصار کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 150 نشستیں حاصل کرچکی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انہوں نے یہ دعویٰ کس بنیاد پر کیا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں