’درخواست دائر کرکے غائب ہوجاتے ہیں، ایسا مذاق نہیں چلے گا‘، سپریم کورٹ کا درخواست گزار کو پیش کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 19 فروری 2024
چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیے یہ کیا محض تشہیر کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی؟—فوٹو:سپریم کورٹ آف پاکستان ویب سائٹ
چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیے یہ کیا محض تشہیر کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی؟—فوٹو:سپریم کورٹ آف پاکستان ویب سائٹ

8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کے کیس میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو درخواست گزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد علی کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایسے سپریم کورٹ کے ساتھ مذاق نہیں ہو سکتا کہ پہلے درخواست دائر کرتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں، یہ کیس ہم سنیں گے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے درخواست گزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد علی سے متعلق پوچھا تو جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا درخواست گزار نے 13 فروری کوپٹیشن واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پہلے درخواست دائر کرتے ہیں اور پھر اب غائب ہوجاتے ہیں، کیایہ مذاق چل رہا ہے؟

عدالتی عملے نے بتایا کہ درخواست گزار سے بذریعہ فون اور ایڈریس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ممکن نہ ہوسکا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیے یہ کیا محض تشہیر کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی؟ درخواست گزار نے درخواست دائرکرتے ہی خود میڈیا پر جاری کر دی، کیا پتا درخواست گزار نے خود درخواست فائل کی بھی یا نہیں، کیا پتا بعد میں آکر درخواست گزار کہہ دے کہ میں نے واپس نہیں لی، اس طرح سے سپریم کورٹ کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کو کسی بھی طرح پیش کریں، یہ کیس چلائیں گے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے درخواست ٹیلی ویژن کے لیے دائرہوئی تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کا ایڈشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ایسے نہیں چلے گا، عام طورپردرخواست دائرہوتے ہی میڈیا پرجاری نہیں ہوجاتی، کیس کی سماعت آج ہی درخواست گزار کے آنے پر ہو گی۔

اس کے ساتھ عدالت نے سماعت میں وفقہ کردیا، وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت 21 فروری تک ملتوی کر تے ہوئے درخواست گزار بریگیڈئیر ر علی خان کو وزارت دفاع کے ذریعے نوٹس جاری کردیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت میں حکمنامہ لکھوایا جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے خود کو فوج کا سابق بریگیڈئیر ظاہر کیا، عدالت کو بتایا گیا کہ دوبارہ رابطہ کرنے پر درخواست گزار بریگیڈئیر (ر) علی خان کا رابطہ نمبر بند ملا، کیا صرف تشہیر کے لیے درخواست دائر کی گئی؟ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سپریم کورٹ کا غلط استعمال کرنے نہیں دیں گے۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بتائے گئے پتے اور رابطہ نمبر پر درخواست گزار کو نوٹس کی تعمیل نہیں ہو سکی، انتخابات سے متعلق درخواست 12 فروری کو براہراست سپریم کورٹ میں دائر ہوئی، درخواست دائر ہونے سے پہلے ہی میڈیا پر نشر ہو گئی، انتخابات سے متعلق دائر درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کی، درخواست گزار نے درخواست کی بھر پور تشہیر ہونے کے بعد واپس لینے کی استدعا کر دی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ایس ایچ او کے ذریعے بھی درخواست گزار بریگیڈ (ر) علی خان سے رابطہ کیا جائے، درخواست گزار کو پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ یہ درخواست گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، درخواست علی خان نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا تھا۔

اس میں استدعا کی گئی کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دیے جائیں اور اس انتخابات کے نتیجے میں حکومت سازی کے عمل کو روکا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے اور دھاندلی، الیکشن فراڈ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے جائیں۔

تبصرے (0) بند ہیں