غیر قانونی گرفتاریوں کا معاملہ: توہین عدالت پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی گرفتاری کا حکم

اپ ڈیٹ 20 فروری 2024
اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کا ایم پی او آرڈر کرنے پر  ڈی سی اسلام آباد،  صدر  کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کا ایم پی او آرڈر کرنے پر ڈی سی اسلام آباد، صدر کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی غیر قانونی گرفتاریوں کے کیس میں توہین عدالت پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کل صبح 9 بجے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کا ایم پی او آرڈر کرنے پر ڈی سی اسلام آباد، صدر کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز ملک جمیل ظفر، سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) فاروق امجد بٹر بھی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، طلب کیے جانے کے باوجود ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن عدالت کے سامنے پیش نہ ہوسکے۔

وکیل ڈی سی راجا رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے والدہ کے ساتھ عمرے پر جانا ہے، جسٹس بابر ستار نے سوال اٹھایا کہ عدالت کو بتائے بغیر ڈی سی بیرون ملک چلے گئے؟ وکیل نے بتایا کہ ان کی والدہ نے کہا تھا اس لیے ابھی عرفان نواز میمن خیر پور میں ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ کل عدالت نے عرفان نواز میمن کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور نہیں کی تھی۔

دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو ڈپٹی کمشنر عرفان نواز کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

گرفتاری کا تحریری حکم جاری

ادھر عدالت نے شہریار آفریدی کیس میں توہین عدالت پر ڈی سی اسلام آباد کی گرفتاری کا تحریری حکم جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بار ستار نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود ڈی سی اسلام آباد کی عدم پیشی پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو کل صبح 9 بجے گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم میں کہا کہ آئی جی اسلام آباد دوسرے صوبوں کے ساتھ مل کر وارنٹ گرفتاری پر عمل کروائیں اور ڈی سی اسلام آباد ایئرپورٹ، سی پورٹ یا بارڈر کراسنگ پر نظر آئے تو گرفتار کرکے پیش کریں۔

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو بھی حکم دیا کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا حکم بھی دے دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 16 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی مینٹیننس پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران گرفتاری کا آرڈر معطل کرتے ہوئے دونوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی تھی جبکہ ایس ایس پی آپریشنز اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بعدازاں 7 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد (ڈی سی) عرفان نواز میمن اور 3 دیگر افسران پر شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت طویل حراست سے متعلق کیس میں توہین عدالت کی فرد جرم عائد کردی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں