سکھر، نوشہرو فیروز موٹر وے کرپشن کیس، سابق ڈپٹی کمشنر مٹیاری سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد

اپ ڈیٹ 21 فروری 2024
نیب پراسیکیوٹر نے اسکینڈل کے حوالے سے دسمبر 2022 میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی — فائل فوٹو
نیب پراسیکیوٹر نے اسکینڈل کے حوالے سے دسمبر 2022 میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی — فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو (نیب) کی عدالت نے سکھر،-حیدر آباد موٹر وے اور نوشہرو فیروز موٹر وے میگا کرپشن کیس میں گرفتار سابق ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان رشید سمیت دیگر ملزمان پر فردجرم عائد کردی۔

ڈان نیوز کے مطابق عدالت نے 14مارچ تک گواہوں کو طلبی کے لیے نوٹسز بھی جاری کردیے ہیں، دوران سماعت جیل میں قید ملزمان کو وڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔

یاد رہے کہ مٹیاری اور نوشہرو فیروز کرپشن ریفرنسز ایک ساتھ ہی چلائے جا رہے ہیں، ان ریفرنس میں تقریباً 43 ملزمان نامزد ہیں۔

واضح رہے کہ 2022 میں سندھ کے ضلع مٹیاری میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا جہاں ایک سرکاری افسر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص 2 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد رقم نکالنے میں ملوث پایا گیا تھا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایم 6 سکھر حیدرآباد موٹر وے پراجیکٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری فنڈز میں خورد برد کا ضمنی چالان احتساب عدالت میں جمع کرادیا تھا، ضمنی ریفرنس میں ضلع نوشہرو فیروز میں مالی غبن کا احاطہ کیا گیا تھا، اس سے قبل 2022 میں ریفرنس میں صرف مٹیاری ضلع میں غبن کا احاطہ کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر مٹیاری کے علاقے ایم 6 میں خورد برد کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نیب نے سابق ڈی سی عدنان رشید، سابق اے سی منصور عباسی اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا اور انہیں دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر جنگو خان ​​کے مطابق نوشہرو فیروز کے ضمنی ریفرنس میں 23 ملزمان نامزد تھے، ان میں سابق ڈی سی تاشفین عالم خان، ان کی اہلیہ ارفع ضیا، مختیار علی چانڈیو، سندھ بینک کے برانچ منیجر نوشہرو فیروز، عطا حسین سہتو، آپریشنز منیجر سندھ بینک نوشہرو فیروز، دو سابق افسران شامل تھے۔

نیب پراسیکیوٹر جنگو خان ​​کے مطابق دو ملزمان عاشق کلیری اور اخلاق شاہ نے پلی بارگین کا انتخاب کیا تھا اور ان کے نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیے گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں