لاہور ہائی کورٹ نے نگران حکومت کی جانب سے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا۔

ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ادویات کی قیمتیں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو مقرر کرنے کا اختیار دینے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے نوٹیفیکشن پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے لاہور کے شہری محمد اسلم کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ندیم سرور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، درخواست میں وفاقی حکومت، ڈریپ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ کابینہ نے ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار ڈریپ سے لے کر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دے دیا ہے، نگران کابینہ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں من مانے ریٹس پر ادویات فروخت کر کے عوام پر بوجھ ڈالیں گی۔

انہوں نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار کمپنیوں کو دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور ادویات کی قیمتیوں میں حالیہ اضافہ بھی واپس لینے کا حکم دے۔

جس پر عدالت نے نوٹیفیکشن پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیتےہوئے ادویات کی قیمتیں فارماسیوٹیکل کمپنیز کو مقرر کرنے کا اختیار دینے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز (21 فروری کو ) حکومت نے 146 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

ڈریپ نے حکومت کو 262 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجی تھی اور حکومت نے ان میں سے 146 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔

جن دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں کینسر کی ادویات، ویکسینز اور اینٹی بائیوٹک ادویات شامل ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں