پاکستان کرکٹ کے سابق ڈائریکٹر محمد حفیظ نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم اور غیر ملکی کوچز مکی آرتھر اور گرانٹ بریڈ برن نے بھارت میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں ٹیم کی فٹنس کو سب سے کم ترجیح دی تھی۔

اس کےعلاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مایوس کن دوروں کے بعد محمد حفیظ کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا ورلڈ کپ میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد محمد حفیظ کو 2023 کے آخر میں ٹیم ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

محمد حفیظ کے چارج سنبھالنے کے فوراً بعد آسٹریلیا نے پاکستان کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کیا، جب کہ کیویز کے خلاف پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز 4-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نجی اسپورٹس چینل میں گفتگو کرتےہوئے محمد حفیظ نے انکشاف کیا کہ ’جب میں نے(2023 میں) ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا اور ہم آسٹریلیا پہنچے تو میں نے ٹیم ٹرینر سے کہا کہ وہ مجھے کھلاڑیوں کے فٹنس معیارکے بارے میں رپورٹ دیں اور فٹنس کا نیا طریقہ تیار کریں۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ ’ٹرینر نے انکشاف کیا کہ 6 ماہ قبل ٹیم ڈائریکٹر، سابق کپتان (بابر) اور ہیڈ کوچ (مکی آرتھر) نے بتایا تھا کہ فٹنس اس وقت ترجیح نہیں ہے اور کھلاڑیوں کو جیسا وہ چاہتے ہیں کھیلنے دیں۔‘

محمد حفیظ نے مزید کہا کہ ’یہ میرے لیے چونکا دینے والی خبر تھی جب ٹیم ٹرینر نے مجھے بتایا کہ انہیں کھلاڑیوں کی فٹنس نہ چیک کرنے کے لیے کہا گیا تھا‘۔

حفیظ نے کہا کہ جب ڈائریکٹر بننے کے بعد انہوں نے کھلاڑیوں کے جسم کا فیٹ لیول یعنی چربی کا لیول چیک کیا تو تمام کھلاڑی کا فیٹ لیول بین الاقوامی کرکٹ کے معیار کے مطابق بالکل نہیں تھا۔

محمد حفیظ نے الزام لگایا کہ جب آسٹریلیا میں کچھ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کیے گئے تو وہ دو کلومیٹر کی دوڑ بھی مکمل نہیں کر سکے، ’ماڈرن ڈے کرکٹ میں فٹنس تمام ٹیموں کی اولین ترجیح ہے۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ ’کھلاڑیوں کے جسم کی چربی کی سطح معمول کی حد سے ڈیڑھ پوائنٹ زیادہ تھی۔‘

محمد حفیظ نے یہ بھی کہا کہ بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنی ابتدائی جگہ چھوڑنے اور تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے پر راضی کرنے میں انہیں تین ماہ لگے۔

تبصرے (0) بند ہیں