امریکی ریپبلکن نمائندے اینڈی اوگلس نے غزہ میں فلسطینی بچوں کے حوالے سے نفرت بھرا تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں ان سب کو مار دینا چاہیے‘۔

امریکی رکن کانگریس کے اس نفرت بھرے تبصرے پر انہیں ڈیموکریٹس اور امریکا میں بسنے والے مسلمان کمیونٹی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ایک بیان میں امریکن مسلم ایڈوائزری کونسل نے اینڈی اوگلس کے بیان کی مذمت کی اور لکھا کہ ان کا تبصرہ ’فلسطینی عوام کے خاتمے‘ کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون سوال کرتی ہیں کہ ’میں نے بچوں کی کٹی ہوئی لاشوں کی فوٹیج دیکھی ہے، میرے ٹیکس دہندگان سے آپ ان بچوں پر بمباری کررہے ہیں۔‘

جس پر امریکی رکن کانگریس دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ان سب کو مار دینا چاہیے، حماس اور فلسطینی 20 سال سے اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں،اب قیمت ادا کرنے کا وقت ہے۔‘

اور پھر انہوں نے کیمرے کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیتھ ٹو حماس‘۔

دوسری جانب اوگلس کی ترجمان ایما سیٹل نے ان کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینیوں کا ذکر نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ واضح طور پر ’دہشت گرد گروپ‘ حماس کا حوالہ دے رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ ویڈیو 15 فروری کی ہے تاہم یہ ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر اس وقت پوسٹ کی گئی جب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کو تیسری بار ویٹو کر دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں