اسرائیلی فوج کی غزہ میں وحشیانہ بمباری جاری ہے، جس کے نتیجے میں مزید 103 فلسطینی شہید ہو گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج نے رفح اور خان یونس میں ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔

سفاک فوج نے مختلف علاقوں میں صحافیوں پر بھی بے دریغ فائرنگ کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو تیسری مرتبہ ویٹو کردیا تھا، جس پر اتحادیوں نے امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق قرارداد پر ووٹنگ سے قبل امریکا نے معاملے کے حل کے لیے ایک متبادل ڈرافٹ پیش کیا جس میں ’سیزفائر‘ لفظ موجود تھا لیکن فوری طور پر جنگ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

حال میں پیش کی گئی سیز فائر کی قرارداد پر الجزائر گزشتہ تین ہفتوں سے کام کررہا تھا جس میں مطالبہ کیا تھا کہ انسانی بنیادوں پر سیز فائر کرتے ہوئے تمام فریقین کا احترام کیا جائے۔

سیز فائر کے لیے ووٹنگ کو ویٹو کرنے کے عمل کو چین اور روس کے ساتھ ساتھ امریکا کے اتحادیوں فرانس، سلووینیا اور مالٹا نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسلم میں سلووینیا کے نمائندے سیمیول زوگر نے کہا تھا کہ ہم نے قرارداد کے حق میں اس لیے ووٹ دیا تاکہ غزہ میں شہریوں کا قتل عام رک سکے، فلسطینیوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں جس کا ایک انسان سامنا کر سکتا ہے۔

فرانسیسی سفیر نکولس دی ریویری نے کہا تھا کہ انسانی اموات اور انسانوں کو درپیش مشکلات ناقابل برداشت ہیں اور اسرائیلی کارروائیوں کو لازمی رکنا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں