فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے متحدہ عرب امارات کو ’گرے لسٹ‘ سے نکال دیا ہے جب کہ کینیا اور نمیبیا کو اس لسٹ میں شامل کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گرے لسٹ میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ’اسٹریٹجک کوششوں‘ میں کمزور ہیں۔

تاہم وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے عالمی اینٹی منی لانڈرنگ واچ ڈاگ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ایف اے ٹی ایف ایسے ممالک کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے سربراہ راجا کمار نے کہا کہ کینیا اور نمیبیا کو اینٹی منی لانڈرنگ سسٹم میں کمی کا سامنا ہے اور اس کے تدارک کے لیے ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر 21 ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے علاوہ بارباڈوس، جبرالٹر اور یوگنڈا کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ایف اے ٹی ایف کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ تبدیلیاں ملک کی حیثیت اور مسابقت کو مضبوط بنائیں گی اور عالمی سطح پر معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن کو آگے بڑھائیں گی۔

حالیہ دہائیوں میں متحدہ عرب امارات نے ایشیا اور یورپ کے درمیان مالیات، تجارت اور سفر کا مرکزی مرکز بننے کی کوشش کی ہے، تاہم 2022 میں غیر واضح مالیاتی لین دین اور ملک میں روسی رقم کی آمد کے خدشات کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

200 سے زائد ممالک نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ایف اے ٹی ایف ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹس کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔

بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو، ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں