غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں محمود فتوح نامی 2 ماہ کا بچہ غذائی قلت کے باعث انتقال کر گیا ہے۔

وفا نیوز ایجنسی کے مطابق بچے کی موت اس وقت ہوئی جب اس کے لیے دودھ اور بنیادی سامان نہ مل سکا۔

ایک پیرامیڈیک (جس نے بچے کے والدین کی ہسپتال لانے میں مدد کی تھی) کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک خاتون کو دیکھا جو اپنے بچے کو گود میں لےکر مدد کے لیے چیخ رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا بچہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

پیرامیڈیک کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچے کو ہسپتال پہنچایا جہاں اسے شدید غذائی قلت کے باعث آئی سی یو میں لے جایا گیا لیکن وہ زندہ نہ بچ سکا۔

شمالی غزہ کو غذائی قلت کا سامنا ہے، اسرائیل کی جانب سے مسلسل بمباری کے باعث اقوام متحدہ کی ایجنسی نے امدادی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔

غزہ کے نومولود بچوں کے لیے دودھ کی قلت

غزہ میں ماہر اطفال معاذ الماجدہ کا کہنا ہے کہ ماؤں کی صحت پہلے ہی خراب ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر ہیں۔

المجیدہ نے مزید کہا کہ ’بچے ایسا کھانا کھا رہے ہیں جس میں ان کی نشوونما کے لیے ضروری غذائی اجزاء کی کمی ہے۔‘

اس ہفتے کے شروع میں یونیسیف اور دیگر امدادی تنظیموں کے ایک نئے تجزیے میں کہا گیا تھا کہ ’غزہ کی پٹی میں بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائی قلت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کی صحت کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

یونیسیف کے انسانی ہمدردی اور سپلائی آپریشنز کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چیبان نے کہا کہ غزہ میں بچوں کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں