سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کے سربراہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں 4 ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

اس موقع پر جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیے کہ اپیلیں 2010 سے زیر سماعت ہیں، ہم انہیں جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔

عدالت نے دوران سماعت پیش نا ہونے پر ملزمان غلام مصطفیٰ، گلزار احمد، ظفر احمد اور اصغر میمن کے 25 ہزار روپے کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے، سندھ ہائی کورٹ نے سابق پولیس افسر واجد درانی اور دیگر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی۔

دوسری جانب سابق پولیس چیف شاہد حیات مرحوم کے بھائی نے اپیل کی پیروی کے لیے درخواست دائر کی جو عدالت نے منظور کرلی۔

بعد ازاں عدالت نے مزید تفصیلات 22 اپریل تک طلب کرلیں۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے سربراہ مرتضیٰ بھٹو اپنے 7 ساتھیوں اور حامیوں سمیت 20 ستمبر 1996 کو کلفٹن میں ان کی رہائش گاہ کے قریب پولیس کے ساتھ مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔

مرتضیٰ بھٹو کے ساتھی نور محمد نے جنوری 2010 میں سندھ ہائی کورٹ میں سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس میں 18 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں