عام افراد سمیت شوبز شخصیات کی جانب سے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مشتعل ہجوم سے ایک خاتون کی زندگی بچانے پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) شہربانو کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔

اے ایس پی شہربانو نے لاہور کے کاروباری علاقے اچھرہ میں ایک خاتون کو مشتعل ہجوم سے اس وقت بچایا جب ہجوم نے خاتون کے لباس پر لکھے ہوئے عربی زبان کے حروف کو مقدس کتاب قرآن پاک کی آیات سمجھ کر ان پر حملہ کردیا تھا۔

پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کرنے گئی تھی، خاتون نے ایک لباس پہنا ہوا تھا جس میں کچھ عربی حروف تہجی لکھے ہوئے تھے جس پر لوگوں نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور خاتون سے فوری طور پر لباس کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھی ہیں۔

اس دوران اچھرہ بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھا ہو گئی اور مشتعل ہجوم نے خاتون کو ہراساں کرنا شروع کر دیا اور انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بچایا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کو بچانے کے لیے مرد پولیس اہلکاروں کی سربراہی میں خاتون اے ایس پی شہربانو آکر خاتون کی زندگی بچاتی ہیں اور انہیں اپنی بانہوں میں سیکیورٹی کے حصار میں ہجوم سے دور لے جاتی ہیں۔

لیڈی پولیس افسر کی جانب سے خاتون کو باحفاظت ہجوم سے نکالنے کے دوران مشتعل افراد دونوں کے خلاف توہین کے الزامات اور نعرے بھی لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

—اسکرین
—اسکرین

مشتعل ہجوم سے خاتون کو بچانے کی پولیس افسر کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں اے ایس پی شہربانو کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔

—اسکرین
—اسکرین

عام سوشل میڈیا صارفین کی طرح شوبز شخصیات نے بھی اے ایس پی شہربانو کی تعریفیں کیں اور لکھا کہ پرامن ماحول کے لیے ان جیسی دیگر بہادر خواتین آفیسرز کی ضرورت ہے۔

—اسکرین
—اسکرین

اداکارہ سجل علی، یشمیٰ گل، عائشہ عمر، سرمد کھوسٹ اور فلم ساز شرمین عبید چنائے سمیت دیگر شوبز شخصیات نے اے ایس پی شہربانو کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کی تعریفیں کیں اور مطالبہ کیا کہ انہیں اعلیٰ بہادری کے ایوارڈ سے نوازا جائے۔

—اسکرین
—اسکرین

بعد ازاں پنجاب پولیس نے بھی خاتون اے ایس پی کی بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت کو انہیں قائد اعظم پولیس میڈل دینے کی سفارش بھی کی۔

تبصرے (0) بند ہیں