اسلام آباد ہائی کورٹ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی تھانہ آبپارہ، موچکو سندھ اور لسبیلہ بلوچستان میں آصف علی زرداری پر سنگین الزامات لگانے کے خلاف درج ایک جیسے متعدد مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر سندھ پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل سے جواب طلب کرلیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق شیخ رشید کی مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی، شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبدالرازق کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، ڈپٹی سپرٹینڈنٹ سندھ پولیس بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت تھانہ موچکو سندھ میں درج مقدمے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، عدالت نے دریافت کیا کہ کیا یہ رپورٹ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس کی مشاورت سے بنی ہے؟ اس پر پولیس افسر نے بتایا کہ جی رپورٹ عدالتی حکم کے بعد مشاورت سے بنی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ رپورٹ شیخ رشید کے وکیل کو دیں، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے وکیل سے کہا کہ کہ آپ رپورٹ کو دیکھ لیں پھر دوبارہ سماعت کرتے ہیں۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سندھ پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ایس ایس پی کیماڑی تفصیلی رپورٹ پیش کریں ، 2 ہفتے کا وقت ہے اگر مکمل تفصیلی رپورٹ پیش نہ ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ تینوں افسران کو بتادیں اگر عمل درآمد نہ ہوا تو تینوں کو جیل بھیجیں گے۔

بعد ازاں ایس ایس پی کیماڑی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، اس پر عدالت نے دریافت کیا کہ اس رپورٹ پر آئی جی سندھ کے دستخط نہیں ہیں ؟ یہ تو کسی اور افسر کے ہیں۔

پولیس افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آپ نے ایڈووکیٹ جنرل کے دستخط کا کہا تھا، عدالت نے وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل کے دستخط ہونے چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے سندھ پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ جنوری 2023 کے آخر میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آب پارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا۔

مذکورہ ایف آئی آر میں مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید نے بول نیوز پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’آصف زرداری نے کچھ دہشت گردوں کی خدمات حاصل کی ہیں جو عمران خان مروانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں الزام علیہ کے پاس تمام معلومات موجود ہیں جو کہ وہ بتانے کو تیار ہیں‘۔

ایف ؔآئی آر میں مزید کہا گیا کہ شیخ رشید نے یہ بیان ایک سازش کے تحت دیا وہ سابق صدر کو بدنام کرنا اور ان کے اور ان کے خاندان کے لیے مستقل خطرہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔

درخواست گزار نے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ شیخ رشید اس من گھڑت اور بے بنیاد سازش کا ذکر کر کے دو گروہوں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں تصادم کرانا چاہتے ہیں تا کہ ملک کا امن خراب ہو۔

2 فروری 2023 کو سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

16 فروری 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کے الزام سے متعلق کیس میں گرفتار سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی، جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں