ماڈل و اداکارہ ژالے سرحدی نے انکشاف کیا ہے کہ بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے جب پہلی بار ان کا حمل ضائع ہوا تو ڈاکٹرز نے انہیں رحم مادل نکلوانے کا مشورہ دیا۔

ژالے سرحدی نے حال ہی میں فریحہ الطاف کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے خواتین کی صحت اور دوران حمل ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے 24 یا 25 سال کی عمر میں پہلی بیٹی عنایا کو جنم دیا تھا اور انہیں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی تھی، یہاں تک کہ انہیں الٹیاں تک نہیں آتی تھیں۔

ان کے مطابق لیکن پہلی بیٹی کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی وہ دوبارہ حاملہ ہوگئیں لیکن حمل ٹھہرنے کے محض 6 ہفتوں بعد ہی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہوگیا۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہیں ایک خاص طرح کا انفیکشن ہوگیا تھا لیکن جس خاتون ڈاکٹر نے ان کا آپریشن کیا، انہوں نے ان کی بیماری یا مسئلے کی غلط تشخیص کی اور انہیں کہا کہ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

ژالے سرحدی کا کہنا تھا کہ لیکن آپریشن کے باوجود انہیں مسائل کا سامنا رہا، ان سے خون کا اخراج ہوتا رہا، ان کے ساتھ دوسرے مسائل بھی ہوتے رہے، جس کے بعد انہوں نے دوسرے ڈاکٹرز سے رجوع کیا۔

اداکارہ کے مطابق دوسرے ڈاکٹرز نے انہیں فوری طور پر رحم مادر نکلوانے کا مشورہ دیا، جس پر وہ پریشان ہوگئیں اور انہوں نے انتہائی کم وقت میں فیصلہ کرکے مسئلے کو حل کیا لیکن بعد ازاں دوسری بار بھی ان کا حمل ضائع ہوگیا۔

ژالے سرحدی نے بتایا کہ دوسری بار حمل ضائع ہونے کے بعد وہ ذہنی مسائل کا بھی شکار ہوگئیں اور ان میں ہائپو تھائیرائیڈ (hypothyroid) کی بھی تشخیص ہوئی لیکن اس باوجود ان کے ہاں حمل ٹھہرا اور تیسری بار بھی ان کا حمل ضائع ہوا۔

اداکارہ نے بتایا کہ ان کے تینوں حمل 5 سے 6 ہفتوں کے اندر ہی ضائع ہوئے تھے، اس کے بعد انہوں نے مزید بچے پیدا کرنے سے گریز کیا۔

ژالے سرحدی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جب ان کی عمر محض 15 سال تک تب ان کی کمر کا سائز 42 تھا، جس کے بعد انہوں نے ماڈلنگ کیریئر کا آغاز کیا تو اپنا وزن کم کرکے کمر کا سائز 24 تک لے آئیں۔

تبصرے (0) بند ہیں