پی ایس ایل9 میں دفاعی چیمپیئن قلندرز کو لگاتارچھٹی شکست، سلطانز 60رنز سے کامیاب

27 فروری 2024
عثمان خان نے 11 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 96 رنز کی اننگز تراشی— فوٹو: اے ایف پی
عثمان خان نے 11 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 96 رنز کی اننگز تراشی— فوٹو: اے ایف پی

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے نویں ایڈیشن کے میچ میں ملتان سلطانز نے عثمان کی عمدہ بیٹنگ اور اسامہ میر کی شاندار باؤلنگ کی بدولت دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز کو باآسانی مات دے کر ایونٹ میں لگاتار چھٹی شکست سے دوچار کردیا۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ملتان سلطانز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

سلطانز کو اننگز کی ابتدا میں ہی بڑا دھچکا لگا اور کپتان محمد رضوان پہلے ہی اوور میں کھاتا کھولے بغیر شاہین شاہ آفریدی کی وکٹ بن گئے۔

ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان بغیر کوئی رن بنائے پہلے ہی اوور میں بولڈ ہو گئے تھے— فوٹو: اے ایف پی
ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان بغیر کوئی رن بنائے پہلے ہی اوور میں بولڈ ہو گئے تھے— فوٹو: اے ایف پی

اس کے بعد ریزا ہینڈرکس کا ساتھ دینے عثمان خان آئے اور دونوں نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری وکت کے لیے 70 رنز کی شراکت قائم کی۔

ہینڈرکس نے 27 گیندوں پر ایک چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 40 رنز کی اننگز کھیلی لیکن 74 کے مجموعے پر سکندر رضان نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

دوسرے اینڈ سے عثمان خان نے جارحانہ انداز اپنایا اور 21 رنز بنانے والے طیب طاہر کے ہمراہ تیسری وکٹ کے لیے مزید 77 رنز کی ساجھے داری بنا کر ایک بڑے اسکور کی راہ ہموار کی۔

طیب 15ویں اوور کی آخری گیند پر پویلین لوٹے لیکن عثمان خان کا بلا چلتا رہا اور انہوں نے افتخار احمد کے ہمراہ مزید 60 رنز جوڑ کر اسکور کو 211 تک پہنچا دیا۔

ریزا ہینڈرکس نے 40 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی— فوٹو: اے ایف پی
ریزا ہینڈرکس نے 40 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی— فوٹو: اے ایف پی

عثمان سنچری کی جانب گامزن تھے لیکن 96 کے اسکور پر ان کی 11 چوکوں اور دو چھکوں سے مزین اننگز شاہین کے ہاتھوں اختتام کو پہنچی۔

افتخار احمد نے اختتامی اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بنائے جس کی بدولت ملتان سلطانز نے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 214 رنز بنانے میں کامیاب رہی جو اب تک اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اسکور ہے۔

لاہور قلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 2 وکٹیں اپنے نام کیں۔

215 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اوپنرز فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان نے اپنی ٹیم کو مثبت آغاز فرہام کرتے ہوئے 5.3 اوورز میں 54 رنز بنائے لیکن پھر دونوں ہی اوپنرز یکے بعد دیگرے پولین لوٹ گئے، فخر نے 23 اور صاحبزادہ فرحان نے 31 رنز بنائے۔

افتخار احمد اور عثمان خان نے اختتامی اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کی— فوٹو: اے ایف پی
افتخار احمد اور عثمان خان نے اختتامی اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کی— فوٹو: اے ایف پی

گزشتہ میچ میں ناقابل شکست سنچری بنانے والے راسی وین ڈر ڈوسن نے کامران غلام کے ساتھ مل کر اسکور کو 89 تک پہنچایا لیکن اسی اسکور پر کامران کی 12 رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

سکندر رضا نے 2 چھکوں کی مدد سے 17 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی لیکن وہ بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور فیصل اکرم کی دوسری وکٹ بن گئے۔

اس کے بعد میچ میں اسامہ میر کا شو شروع ہوا جنہوں نے شاہین شاہ آفریدی کو آؤٹ کرنے کے بعد ڈوسن کی 30 رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا جس کے ساتھ ہی لاہور کی میچ جیتنے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔

لیگ اسپنر نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور ایک، ایک کر کے قلندرز کے بلے بازوں کو پویلین بھیجتے رہے۔

لاہور قلندرز کے فخر زمان کے بولڈ ہونے کا منظر— فوٹو: اے ایف پی
لاہور قلندرز کے فخر زمان کے بولڈ ہونے کا منظر— فوٹو: اے ایف پی

قلندرز کی پوری ٹیم 17 اوورز میں 154 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی اور اس تباہی کے ذمے دار اسامہ میر تھے جنہوں نے 40 رنز کے عوض 6 وکٹیں اپنے نام کیں۔

سلطانز نے میچ میں 60 رنز سے فتح اپنے نام کی اور دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز کو ایونٹ میں لگاتار چھٹی شکست سے دوچار کردیا جس کے ساتھ ہی ان کی پلے آف تک رسائی کی امیدیں بھی تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں