غزہ میں جنگ سے متعلق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے آئس کریم کھانے پر امریکی صدر جوبائیڈن کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

امریکی اخبار ٹائم میگزین کے مطابق 27 فروری کو جوبائیڈن نے نیویارک شہر میں ایک آئس کریم شاپ کا دورہ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ آئس کریم کا مزہ لے رہے ہیں اور ساتھ ہی وہاں صحافیوں سے اسرائیل غزہ جنگ بندی کے امکان سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔

صحافی کے ایک سوال پر جوبائیڈن کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ ہفتے کے آخر تک جنگ بندی پر فیصلہ ہوجائے گا، میرے قومی سلامتی کے مشیر نے مجھے بتایا کہ ہم جنگ بندی کے قریب ہیں، ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن امید ہے کہ اگلے پیر تک جنگ بندی کا امکان ہے‘۔

آئس کریم کا مزہ لیتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی پر بات کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے جوبائیڈن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’نسل کشی کرنے والے جوبائیڈن آئس کریم کھا رہے ہیں جبکہ اسرائیل نے 14ہزار بچوں کا قتل کردیا ہے‘۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آئس کریم واقعی اس بات کو ظاہر کررہی ہے کہ مغربی دنیا نے غزہ میں ہونے والی نسل کشی کر کتنا سنجیدہ لیا ہے۔ ’

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اولڈ جوبائیڈن بھول چکے ہیں کہ انہوں نے کچھ دن پہلے جنگ بندی کو ویٹو کیا تھا‘، دوسرے صارف نے لکھا کہ ’غزہ میں لوگ مررہے ہیں اور یہ صاحب یہاں آئس کریم کے مزہ لے رہے ہیں، خواہش ہے کہ یہ ان کی آخری آئس کریم ہو‘۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 29 ہزار 878 افراد شہید اور 70 ہزار 215 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں جبکہ 7 اکتوبر کے حملوں سے اسرائیل میں ہلاک والوں کی تعداد 1,139 ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں