مارچ میں مہنگائی کم ہوکر 24.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، وزارت خزانہ

29 فروری 2024
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیادہ بیس کا اثر افراط زر کے دباؤ کو کم رکھنے میں معاون ثابت ہوگا — فائل فوٹو: ڈان
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیادہ بیس کا اثر افراط زر کے دباؤ کو کم رکھنے میں معاون ثابت ہوگا — فائل فوٹو: ڈان

وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں ماہ سے مہنگائی میں بتدریج کمی واقع ہوگی جس کی بنیادی وجہ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہے۔

وزارت خزانہ نے فروری کے لیے اپنے ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لُک میں کہا ہے کہ فروری میں افراط زر 24.5 سے 25.5 فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ہے، جبکہ مارچ میں یہ کچھ کمی کے ساتھ 23.5 سے 24.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود آنے والے مہینے کے لیے افراط زر کی شرح میں کمی کا رجحان دیکھا جاسکتا ہے، جس کی بنیادی وجہ بہتر فصلوں اور رسد میں بہتری کی وجہ سے خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیادہ بیس کا اثر افراط زر کے دباؤ کو کم رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کا فوڈ پرائس انڈیکس، جو کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ تجارت کی جانے والی اشیائے خورونوش کا پتا لگاتا ہے، جنوری 2024 میں اوسطاً 118 پوائنٹس رہا جو دسمبر کی سطح سے ایک فیصد کم ہے۔

یہ رپورٹ پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) کی جانب سے رواں ماہ کے لیے مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرنے سے ایک روز قبل سامنے آئی ہے، اور جب پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ سے منسلک اصلاحات کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ جنوری کے لیے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 28.3 فیصد پر رہا تھا، جو کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل آخری ماہانہ سی پی آئی ڈیٹا تھا۔

جنوری میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسلسل پانچویں پالیسی میٹنگ میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھی تھی اور پورے سال کے افراط زر کے تخمینوں میں اضافہ کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ اس فیصلے کی تصدیق ’بلند‘ افراط زر کی وجہ سے کی گئی تھی جو دسمبر میں 29.7 فیصد تھی۔

بینک کا کہنا تھا کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے بینک کی اوسط افراط زر کی پیش گوئی 23 سے 25 فیصد تک ہے، جس کا پہلے 20 سے 22 فیصد تک کا تخمینہ لگایا گیا تھا، اس اضافے کی وجہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں