ماضی کی مقبول اداکارہ اور سلور اسکرین کی کوئن کہلانے والی شبنم حال ہی میں طویل عرصے بعد پاکستان آئیں تو اپنے آنجھانی شوہر موسیقار روبن گھوش کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئیں۔

شبنم حال ہی میں کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) میں شریک ہوئی تھیں، جہاں اداکارہ و میزبان بشریٰ انصاری نے ان کے سیشن کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔

شبنم نے بتایا کہ ان کی پیدائش سابقہ مشرقی پاکستان (حالیہ بنگلہ دیش) میں ہوئی تھی اور انہیں اردو زبان بلکل نہیں آتی تھی لیکن اس باوجود انہیں اردو فلموں میں کاسٹ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں انتہائی کم عمری میں ہی فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے اردو سیکھنے کے بعد کام کرنا شروع کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کیریئر کے آغاز میں ہی انہوں نے شادی کرلی تھی اور پھر انہوں نے شوبز کو خیرباد کہنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن اس وقت فلم سازوں نے زبردستی انہیں دوبارہ کاسٹ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی ساس کا تعلق عراق سے تھا اور انہوں نے شادی کے بعد فلم سازوں کو یہ کہ کر منع کیا کہ انہیں جیٹھانی اور ساس نے منع کر رکھا ہے لیکن فلم سازوں نے ان کی ساس اور جیٹھانی سمیت دیگر اہل خانہ سے بھی اجازت لی اور انہیں دوبارہ فلموں میں کام کرنے پر مجبور کیا۔

شبنم نے بتایا کہ پاکستان چھوڑ جانے کے باوجود انہیں پاکستان اور یہاں کے لوگ یاد رہتے ہیں اور انہیں اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب انہیں یہاں آنے کی دعوت ملتی ہے۔

پروگرام کے دوران انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش الگ ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ جانے والی رونا لیلیٰ سمیت دیگر شوبز شخصیات سے ان کا رابطہ ہے اور وہ آپس میں جب بھی ملتے ہیں تو پاکستان اور یہاں کی انڈسٹری کی باتیں کرتے ہیں۔

پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے شبنم نے بتایا کہ روبن گھوش اور ان کی جوڑی 50 سال تک ایک ساتھ رہی، فلموں میں کام کرنے کے دوران بھی انہیں شوہر نے کبھی کسی کام سے نہیں روکا۔

انہوں نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان چھوڑ جانے کے بعد وہ یہاں جب بھی آتی تھیں روبن گھوش ان کے ساتھ ہوتے تھے اور 2012 میں بھی وہ ان کے ساتھ آئے تھے لیکن اس بار وہ ان کے بغیر آئی ہیں۔

روبن گھوش کے بغیر پاکستان آنے پر بات کرتے ہوئے شبنم آبدیدہ بھی ہوگئیں اور کہا کہ ان کے شوہر انتہائی اچھے انسان تھے، انہوں نے ان کے لیے بھی گانوں کی خصوصی طور پر موسیقی ترتیب دی۔

خیال رہے کہ برصغیر کے نامور موسیقار روبن گھوش طویل علالت کے بعد فروری 2016 میں 76 برس کی عمر میں ڈھاکا میں انتقال کر گئے تھے.

وہ اپنی اہلیہ شبنم کے ہمراہ 1996 میں بنگلہ دیش منتقل ہو گئے تھے اور تقریباً تیرہ سال بعد 2012 میں پاکستان واپس آئے تھے۔

روبن گھوش نے 1961 میں بنگالی فلموں سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا اور دس سال بعد مقبول فلم ’چندا‘ سے اردو فلموں میں شمولیت اختیار کی۔

روبن گھوش نے پاکستان میں آخری فلم ’جو ڈر گیا وہ مر گیا‘ کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ انھیں پاکستان میں فلموں کے سب سے معتبر 6 نگار ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اسی طرح شبنم نے1960سے قبل پاکستانی فلموں میں اداکاری کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے 1980کی دہائی کے وسط تک مسلسل 30 سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری میں کام کیا، انہیں شاندار اداکاری کے عوض ڈیڑھ درجن کے قریب ایوارڈز بھی دیے گئے۔

ان کا اصل نام جھرنا باسک تھا، شبنم نے ماضی کےمقبول پاکستانی ہیروز وحید مراد، محمد علی اور ندیم سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ بھی کام کیا اور انہوں نے مجموعی طور پر 200 کے قریب فلموں میں کام کیا، جس میں سے زیادہ تر اردو زبان کی فلمیں شامل ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں