برکینا فاسو کے دیہاتوں پر حملوں میں 170 افراد ہلاک ہوئے، حکام

03 مارچ 2024
حکام نے اب تک ان حملوں میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
حکام نے اب تک ان حملوں میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل افریقی ملک برکینا فاسو کے تین شمالی دیہاتوں پر حملوں میں لگ بھگ 170 افراد کو ’قتل‘ کیا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسی دن یعنی 25 فروری کو مشرقی برکینا فاسو میں ایک مسجد اور شمال میں ایک کیتھولک چرچ پر الگ الگ حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

علاقائی پراسیکیوٹر علی بنجمن کولیبلی نے کہا کہ انہیں 25 فروری کو یاٹینگا صوبے کے دیہاتوں کومسلگا، نوڈین اور سورو پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن میں ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ’تقریباً 170 افراد کو قتل کیا گیا۔‘

شمالی قصبے اوہیگویا کے پراسیکیوٹر نے بیان میں کسی گروپ کو ذمہ دار ٹھہرائے بغیر مزید کہا کہ حملوں میں دیگر افراد زخمی ہوئے اور مادی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دفتر نے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور عوام سے معلومات کی اپیل کی ہے۔

حملوں میں زندہ بچ جانے والوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ متاثرین میں درجنوں خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔

مقامی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ حملے ان مہلک واقعات سے الگ تھے جو ایک ہی دن نتیابوانی کی دیہی برادری کی ایک مسجد اور ایساکانے گاؤں کے ایک چرچ میں پیش آئے تھے۔

حکام نے اب تک ان حملوں میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی ہے، لیکن چرچ کے ایک سینئر اہلکار نے اس وقت کہا تھا کہ اس حملے میں کم از کم 15 شہری ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ برکینا فاسو، القاعدہ اور داعش سے وابستہ باغیوں کی طرف سے 2015 میں پڑوسی ملک مالی سے پھیلنے والی پرتشدد شورش کا سامنا کر رہا ہے۔

تشدد نے تقریباً 20 ہزار افراد کی جان لے لی ہے اور برکینا فاسو میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو کہ عدم استحکام سے دوچار خطے ساحل میں واقع دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

ریاست کی عدم تحفظ کو ختم کرنے میں ناکامی پر غصے نے 2022 میں دو فوجی بغاوتوں میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ طاقتور ابراہیم ترور نے باغی گروپوں کے خلاف لڑائی کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں