جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ سے پابندی ہٹانے کے مطالبے کی قرارداد سینیٹ میں جمع کرادی۔

ایوان بالا میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ امر انتہائی باعث تشویش ہے کہ وفاقی حکومت ایک ہیجانی اور بوکھلاہٹ زدہ کیفیت میں وقتاً فوقتاً ایسے مضحکہ خیز قدم اٹھاتی رہتی ہے جس سے ایک جانب دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے تو دوسری طرف ملک میں بےاطمینانی اور اضطراب کی سطح غیر معمولی طور پر بلند ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس سلسلے کی دو بدترین مثالیں یہ ہیں کہ پہلے 8 فروری کو الیکشن کے روز موبائل و انٹرنیٹ سروس بندکرکے انتخابی عمل مشکوک بنایا گیا، پھر گزشتہ دو ہفتوں سے ’ایکس‘کو غیر اعلانیہ طور پر بلاجواز بند رکھا گیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایکس کی بندش آئین کے آرٹیکل 18 اور 19 کی خلاف ورزی ہے۔

اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’ایکس‘ پر پابندی کا جابرانہ، غیر قانونی اور فسطائیت زدہ اقدام فوری واپس لیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان بھر میں 17 سے بند ہونے والی ’ایکس‘ کی سروس تاحال بحال نہیں ہوسکی ہے۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پاکستان میں ایکس کی سروس کیوں بند ہے؟ حکومت نے بھی اس متعلق کوئی وضاحت جاری نہیں کی، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے 22 فروری کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اس کی سروس بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

پی ٹی اے نے تاحال عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی اس نے ایکس کی سروس بند ہونے سے متعلق کوئی وضاحت جاری کی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں