کیریبین ملک ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کی مرکزی جیل پر مسلح گروہوں کے حملے کے بعد 4 ہزار قیدی فرار ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جیل توڑ کر بھاگنے والے ملزمان میں وہ ارکان شامل تھے جن پر 2021 میں صدر جوونیل مویس کے قتل کا الزام ہے۔

ہیٹی میں حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، وزیر اعظم ایریل ہنری کو ہٹانے کے لیے گینگز اب پورٹ او پرنس کے 80 فیصد حصے پر قابض ہیں۔

پرتشدد واقعات میں حالیہ اضافہ 29 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب وزیر اعظم کینیا کی قیادت میں ملٹی نیشنل سیکورٹی فورس ہیٹی بھیجنے کے امکان پر بات چیت کے لیے نیروبی گئے۔

گینگ لیڈر جمی چیریزیئر، جسے ’باربی کیو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے حملے کا اعلان کیا تھا۔

فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔

ہیٹی پولیس یونین نے جیل کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے فوجی مدد کی درخواست کی، لیکن 2 مارچ کی رات کو کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 3 مارچ کو جیل کے دروازے کھلے رہے اور وہاں سیکیورٹی موجود نہیں تھی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 3 قیدی صحن میں مردہ پائے گئے۔

صدر جوونیل مویس کے قتل کے الزام میں قید کولمبیا کے سابق فوجیوں سمیت 99 قیدیوں نےافراتفری میں زخمی ہونے یا مارے جانے کے خوف سے جیلوں میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

صدر جوونیل مویس کے قتل کے بعد سےملک میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا تھا، ابھی تک کوئی نیا صدر نہیں بنا اور 2016 سے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں