پنجاب میں خطرناک نمونیا نے مزید 4 بچوں کی زندگیاں نگل لی ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نمونیا کے 316 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاہور میں ایک روز کے دوران 87 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نمونیا سے 2 بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب میں رواں سال نمونیا سے 462 اموات ہوئیں ہیں اور 36 ہزار 712 کیسز سامنے آئے، دوسری جانب لاہور میں رواں سال نمونیا سے 75 ہلاکتیں ہوئیں اور 8 ہزار 276 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

نمونیا کیا ہے؟

نمونیا پھیپھڑوں کے اندر انفیکشن کو کہا جاتا ہے، نمونیا کے زیادہ تر کیس وائرس کی وجہ سے ہوتے ہں اور یہ نزلہ و زکام کی علامات کے بعد ظاہر ہو سکتا ہے۔

نمونیا ہلکا یا سنگین ہو سکتا ہے، عام طور پر 5 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ رواں سال موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسموگ بھی ہے۔

نمونیا کی وجوہات

نمونیا اگر کسی صحت مند انسان کو ہو تو وہ اس کا مقابلہ با آسانی کرسکتا ہے مگر بچوں کے لیے اس سے نمٹنا بعض اوقات انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔

بچوں کو نمونیا ہونے کی وجوہات میں انہیں دودھ پلانے کی کمی، آلودگی، غذائیت کی کمی، ٹھنڈ میں زیادہ دیر تک رہنا اور کمزور مدافعتی نظام شامل ہے۔

نمونیا کی علامات

نمونیا کی ہلکی علامات بھی جان لیوا ہو سکتی ہیں، اس بیماری کی یہ علامات ہیں:

بلغم اور کھانسی ، بخار، بہت زیادہ پسینہ آنا یا سردی لگنا، معمول کی سرگرمیاں کرنے کے دوران سانس پھولنا، سانس لیتے وقت یا کھانسی کے وقت سینے میں درد محسوس ہونا، تھکاوٹ کا احساس، بھوک میں کمی، متلی محسوس ہونا، سر درد ہونا۔

دیگر علامات آپ کی عمر اور صحت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں:

شیر خوار یا نومولود بچوں میں بعض اوقات کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بعض اوقات انہیں متلی ہو سکتی ہے، توانائی کی کمی ہو سکتی ہے یا پینے یا کھانے میں پریشانی ہو سکتی ہے۔

5 سال سے کم عمر کے بچوں کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

علاج

ڈاکٹرز ابتدائی طور پر تو سینے کا ایکسرے تجویز کرتے ہیں جس سے پھیپھڑوں کے بارے میں صحیح معلومات ملتی ہیں۔

وائرس کے نتیجے میں ہونے والے نمونیا کے لیے اینٹی وائرس ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔

نمونیا ہلکا یا سنگین ہو سکتا ہے، عام طور پر 5 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں