غزہ میں اسرائیل کی جانب سے معصوم شہریوں پر بمباری اور اقوام متحدہ کی جانب سے بار بار خبردار کیے جانے کے باوجود وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکا کو ابھی تک ایسے کوئی شواہد/واقعات نہیں ملے جہاں اسرائیل نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہو‘۔

جان کربی نے یہ بیان اس وقت دیا جب واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ ’کیا غزہ میں امدادی کارکنوں کو قتل کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے؟‘

جواب میں جان کربی نے کہا کہ اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ یہ غلطی تھی، وہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس کی تہہ تک جائیں گے، تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ امدادی کارکنان پر اسرائیلی حملے کے کوئی شواہد نہیں ہیں، اب تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ملا جہاں اسرائیلیوں نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔

جان کربی کے جواب پر صحافی نے ایک بار سوال کیا کہ ’کیا واقعی گزشتہ 5 سے 6 ماہ میں اسرائیل نے کبھی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی؟‘

جس پر وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ’محکمہ خارجہ نے ماضی کے واقعات کا جائزہ لیا ہے اور انہیں ایسے کوئی واقعات نہیں ملے جہاں اسرائیل نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہو‘۔

یاد رہے کہ 2 اپریل کو غزہ میں اسرائیل فضائی حملے کے نتیجے میں غیر ملکی این جی او ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے) کے 7 امدادی کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے غزہ میں وحشیانہ حملے اب بھی جاری ہے، صیہونی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 71 فلسطینی شہید کردیے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 32 ہزار 916 فلسطینی شہید اور 75,494 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے میں اسرائیل میں مرنے والوں کی تعداد 1,139 ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں