• KHI: Zuhr 12:29pm Asr 5:10pm
  • LHR: Zuhr 12:00pm Asr 4:53pm
  • ISB: Zuhr 12:05pm Asr 5:02pm
  • KHI: Zuhr 12:29pm Asr 5:10pm
  • LHR: Zuhr 12:00pm Asr 4:53pm
  • ISB: Zuhr 12:05pm Asr 5:02pm

سہیل احمد کے الزامات اور تنقید پر آفتاب اقبال کا ردعمل سامنے آگیا

شائع April 15, 2024

نامور ٹی وی میزبان آفتاب اقبال نے اداکار، میزبان و کامیڈین سہیل احمد کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آفتاب اقبال نے اپنے یوٹیوب چینل پر سہیل احمد کے الزامات کا جواب دینے کے لیے طویل دورانیے کی ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے سہیل احمد کی ہر بات کا تفصیلاً جواب دیا۔

آفتاب اقبال نے کہا کہ عام طور پر وہ کسی کی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیتے کیونکہ کچھ لوگوں کا رزق ان کے نام سے جڑا ہوتا ہے لیکن سہیل احمد کو زرق کی تنگی نہیں ہے، انہیں کس ریٹنگ کی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے چونکہ خلاف واقعہ باتیں کی ہیں اس لیے وہ ان کی تنقید کا جواب دے رہے ہیں۔

ٹی وی میزبان نے کہا کہ وہ اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ امان اللہ کے ٹی وی کیریئر کا سب سے بڑا کام ان کے ساتھ ہوا اور سہیل احمد کا انفوٹینٹمنٹ میں سب سے بڑا کام بھی ان کی قیادت میں ان کے ساتھ ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اداکار اور فنکار جتنے بڑے ہوتے ہیں اتنے زیادہ حساس ہوتے ہیں، سہیل احمد نے مجھ پر طنز و مزاح کے تیر برسائے جس کا میں حقدار نہیں تھا لیکن میں نے اس لیے برداشت کرلیا کیونکہ میں اداکار یا فنکار نہیں ہوں، میں اتنا حساس نہیں ہوں جتنا سہیل احمد ہیں۔

آفتاب اقبال نے کہا کہ پوڈ کاسٹ میں جب احمد علی بٹ نے آفتاب اقبال کا نام لیا تو سہیل احمد سیخ پا ہوگئے۔

آفتاب اقبال نے سوال کیا کہ کیا سہیل احمد کو مرحوم امان اللہ کو سب سے بڑے کامیڈین قرار دینے پر کوئی شک ہے؟ اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات تھی؟ وہ اس بات سے انکار بھی کرسکتے تھے۔

آفتاب اقبال نے سہیل احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے بڑے ’اداکار‘ ہیں، امان اللہ اداکار نہیں بلکہ اسٹینڈ اپ کامیڈین اور فنکار تھے۔

انہوں نے سہیل احمد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ وہ 2 کامیڈینز کا ایک دوسرے سے موازنہ کیوں نہیں کرسکتے ؟ اگر سہیل احمد کرسکتے ہیں تو کیا ان میں سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں ؟

آفتاب اقبال نے کہا کہ انہوں نے صرف امان اللہ سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا، ہر کسی کی اپنی پسند ہوتی ہے، آفتاب اقبال کا کہنا حُرفِ آخر نہیں ہے، یہ سہیل احمد کے اندر کا خوف ہے جو آفتاب اقبال سے ہمیشہ مرعوب رہتے ہیں، سہیل احمد کی گفتگو میں بہت زیادہ تحقیر تھی۔

سہیل احمد نے احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں کہا کہ وہ آفتاب اقبال سے پیار بھی کرتے ہیں اور چھوٹا بھائی بھی کہہ رہے ہیں، جس پر آفتاب اقبال نے اپنے یوٹیوب چینل پر جواب دیا کہ اگر سہیل احمد کو اتنا ہی پیار ہوتا تو انہیں اپنے انداز میں کنٹرول رکھنا چاہیے تھا، کیا اپنے ساتھی کے ساتھ اس طرح بات کرتے ہیں؟

آفتاب اقبال نے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سہیل احمد کے ساتھ لاشعوری طور پر کچھ ایسا کرلیا ہے جس کا انہیں بہت غم ہے، لیکن انہوں نے سہیل احمد کو کبھی بُرا نہیں سمجھا وہ انہیں بہترین اداکار سمجھتے ہیں۔

آفتاب اقبال نے کہا کہ سہیل احمد کا علم، فلسفہ، لٹریچر وہی ہے جو ’معذرت سے‘ دوسرے اور تیسرے درجے کے اسکرپٹس میں فقروں کی طرح ہیں جن کا کوئی سَر یا پیر نہیں ہوتا اور جنہوں نے بھارتی اور پاکستانی فلموں کا بیڑا غرق کردیا ہے۔

احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں سہیل احمد نے آفتاب اقبال کے جوتوں اور لباس پر تنقید کی تھی، جس پر آفتاب اقبال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے لباس کامیڈینز کو کس طرح کا کانٹینٹ فراہم کرتے ہیں، جس طرح انہیں اپنی مرضی کے شاعر اور اداکار پسند ہیں اسی طرح انہیں اپنی مرضی کا لباس بھی پسند ہے۔

آفتاب اقبال نے انکشاف کیا کہ انہوں نے سہیل احمد کو اپنے شو میں کئی بار مدعو کیا لیکن وہ نہیں آئے۔

سہیل احمد نے احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ آفتاب اقبال کہتے ہیں کہ انہوں نے سب کو کامیاب بنایا جس پر آفتاب اقبال نے اپنے یوٹیوب چینل پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اللہ سب کو کامیاب بناتا ہے اور مجھ سے لوگ وسیلہ بنتے ہیں جس پر اللہ کا شکر گزار ہوں، اگر وہ کسی کی مدد نہ کرتے تو پیچارے تھیٹرز میں دربدر پھر رہے ہوتے۔‘

سہیل احمد نے پوڈکاسٹ میں یہ بھی الزام لگایا کہ آفتاب اقبال کو اپنے شو میں اچھے کامیڈینز مل گئے اس لیے شو کرلیتے ہیں ورنہ وہ اکیلے بیٹھ کر شو نہیں کرسکتے ہیں جس پر آفتاب اقبال نے کہا کہ یہ اس طرح ہے کہ خواجہ خورشید انور سے کہیں کہ آپ میڈم نور جہاں کے بغیر گانا گا کر دکھائیں۔

آخر میں آفتاب اقبال نے سہیل احمد سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی بات بُری لگی ہو تو معاف کرلیں۔

معاملہ کیا ہے؟

یاد رہے کچھ روز قبل اداکار سہیل احمدنے احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی وی میزبان آفتاب اقبال بہت مغرور قسم کے شخص ہیں، وہ خود کے علاوہ کسی کی عزت نہیں کرتے جب کہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے سب کو کامیاب بنایا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آفتاب اقبال نے ان کے ساتھ حسب حال پروگرام کرنا چھوڑ دیا لیکن وہ گزشتہ 15 سال سے وہی پروگرام کر رہے ہیں، کیوں کہ انہیں وہاں بہت عزت مل رہی ہے۔

میزبان نے جب انہیں بتایا کہ آفتاب اقبال کا کہنا ہے کہ مرحوم امان اللہ سب سے بڑے کامیڈین تھے اور وہ دوسرے نمبر پر آپ کو رکھتے ہیں، اس پر سہیل احمد کا کہنا تھا کہ وہ کون ہوتے ہیں کسی کو نمبر دینے والے؟

کارٹون

کارٹون : 24 مئی 2024
کارٹون : 23 مئی 2024