• KHI: Fajr 4:16am Sunrise 5:43am
  • LHR: Fajr 3:23am Sunrise 4:59am
  • ISB: Fajr 3:19am Sunrise 4:59am
  • KHI: Fajr 4:16am Sunrise 5:43am
  • LHR: Fajr 3:23am Sunrise 4:59am
  • ISB: Fajr 3:19am Sunrise 4:59am

پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں عوام کے نہیں، اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں کے نمائندے ہیں، فضل الرحمٰن

شائع April 20, 2024
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پشین میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے— فوٹو: ڈان نیوز
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پشین میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے— فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی ہو یا پارلیمنٹ ہو، آج یہ عوام کے نمائندے نہیں ہیں، یہ اسٹیبلشمنٹ، فوج اور جرنیلوں کے نمائندے ہیں، یہ عوام کے نمائندے نہیں ہوسکتے۔

پشین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین سے یہ تحریک اٹھی ہے تو یہ تحریک بڑھے گی، یہ کراچی تک جائے گی، خیبر پختونخوا اور پنجاب تک جائے گی، پورے ملک کو اٹھائیں گے اور ان جعلی حکمرانوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے کیونکہ ان کا حکومت کرنے کا حق نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے تو کہا گیا کہ یہ اسمبلیاں بنائی گئی ہیں، اب تو یہ ہے کہ اسمبلیاں بیچی گئی ہیں، اسمبلیاں خریدی گئی ہیں، یہ بتاؤ بلوچستان اسمبلی کتنے میں خریدی گئی، کتنے ارب کی، ایک یا دو ارب کی بات نہیں کررہا، پانچ یا 10 ارب کی بات نہیں کررہا، بتاؤ 70 ارب میں خریدی ہے یا 80 ارب میں خریدی ہے یا 100 ارب کی خریدی ہے، اتنی بڑی قیمتیں ادا کر کے تم نے اسمبلیاں بنائیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ تم بتاؤ کہ سندھ اسمبلی کتنے میں خریدی گئی ہے، تم بتاؤ خیبر پختونخوا اسمبلی کتنے میں خریدی گئی ہے، تم بتاؤ کہ جمعیت علمائے اسلام کو شکست دینے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں سے کتنا پیسہ لیا ہے، تم کب تک چھپتے رہو گے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ کٹھ پتلی حکمرانوں کو سامنے رکھ کر پیچھے چھپنے کی ضرورت نہیں ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو بنانے میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے، میں کوئی بڑی بات نہیں کہہ رہا اور اگر بڑی بات لگتی ہے تو اللہ پر اعتماد کر کے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان میں اگر کچھ بھی امن ہے، ملک قائم ہے، ادارے قائم ہیں، اس میں فوج کا کردار کم اور جمعیت علمائے اسلام کا کردار زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے اس ملک کو بنانے اور بچانے کے لیے قربانی دی، علمائے کرام، دینی مدارس نے قربانیاں دیں، آج مدارس پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں اور ہماری اسٹیبلشمنٹ مدارس کے خاتمے کا سوچ رہی ہے، یاد رکھو تو جب جنگ چھڑے گی تو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچو کہ تم رہو گے یا نہیں رہو گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ سنجیدہ اور ملک کو سامنے رکھ کر سیاست کی ہے، اندرونی طور پر بھی ملک کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کیا ہے، بیرونی طور پر بھی مستحکم کرنے کا کردار ادا کیا ہے لیکن اگر تم آئین کو اپنے بوٹوں تلے روندتے رہو گے، اگر تم جمہوریت کو اپنے بوٹوں تلے روندتے رہو، اگر تم اسمبلیوں کو اپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے رہو گے تو پھر آج ہم میدان میں کھڑے ہیں، کل یہ سامنے والا پہاڑ بھی ہمارا انتظار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام آج اس جلسے میں ایک قرارداد کے ذریعے 8 فروری 2024 کے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں، اب عوام براہ راست اسمبلیاں کریں گے، بلوچستان اسمبلی ہو یا پارلیمنٹ ہو، آج یہ عوام کے نمائندے نہیں ہیں، یہ اسٹیبلشمنٹ، فوج اور جرنیلوں کے نمائندے ہیں، یہ عوام کے نمائندے نہیں ہوسکتے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مجرم کو اب مجرم کہنا پڑے گا، بے نقاب کرنا پڑے گا اور ہم نے مصلحتوں کا شکار ہونے کے بجائے ڈنکے کی چوٹ پر بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک کو اسلام، جمہوریت اور خوشحال معیشت کے لیے حاصل کیا گیا، 75سال میں یہ تینوں مقاصد نہیں ہو سکے، سیاستدانوں کا منہ تو کالا کیا جاتا ہے لیکن تینوں مقاصد میں راستے میں رکاوٹ ہمیشہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ رہی ہے اور یہی پاکستان کے انحطاط کی ذمے دار ہے، یہ صرف اپنی عیاشیاں جانتے ہیں، یہ صرف نظام پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں، انتخابات کے نام پر حکومت عوام کی لیکن عوام کو غلام بنایا جاتا ہے اور اس کو حکمرانی نہیں دی جاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی کو پکڑ کر کہتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، اس کو کھانا کھلایا ہے لیکن اگر ایک غریب آدمی کے گھر میں مسلح لوگ چلے جائیں تو وہ کھانا نہیں کھلائے گا تو کیا کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ آپ بتائیں کہ کیا میری ریاست، میرے ملک کا حکمران، کیا میرے ادارے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں جو فنڈز منظور کرتے ہیں، جو ٹینڈر کرتے ہیں، اس میں 5 سے 10 فیصد کا حصہ ان مسلح گروپوں کا نہیں ہوتا، تم اپنے بجٹ میں ان کو 10 فیصد حصہ دیتے رہو تو کیا تم مجرم نہیں ہو، اگر ہمارے کسی کارکن نے چائے پلادی تو وہ مجرم اور اسے جیلوں میں لے جاتے ہو۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ تم پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرو، تم پال رہے ہو دہشت گردوں اور مسلح گروپوں کو، تم ہی ان کو حرکت میں لاتے ہو، بظاہر ان کے ساتھ لڑائی لیکن اندر سے آپ انہی کو ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں، یہ سیاست اب نہیں چلے گی۔

کارٹون

کارٹون : 29 مئی 2024
کارٹون : 28 مئی 2024