پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان نئے بیل آوٹ پیکج کے لیے مذاکرات جاری ہیں جس دوران پاکستان نے آئی ایم ایف کو خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرادی۔

ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی میں سرمایہ کاری پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت کی جائے گی، ایس آئی ایف سی فورم کے ذریعے سرمایہ کاری کے غیر مساوی مواقع پیدا نہیں ہوں گے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ کسی قسم کی ترغیبات یا گارنٹی شدہ واپسی کا کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا، ایس آئی ایف سی کے لیے عالمی معیار کے مطابق شفافیت کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو مسخ نہ کرنے اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی آپریشنل کپیسٹی بہتر بنانے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 10 مئی کو پاکستان کے ساتھ نئےقرض پروگرام پر مذاکرات کے لیے پہلے مرحلے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تکنیکی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی تھی۔

ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ نئے قرض پروگرام پر مذاکرات کا آغاز 15 مئی سے شیڈول ہے، آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر وفد کی قیادت کریں گے۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ ماہرین کی ٹیم وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام سے ملاقاتیں کریں گی، مذاکرات سے پہلے ماہرین کی ٹیم حکومت کے ساتھ ڈیٹا پربات چیت کرے گی، وزارت خزانہ نئے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نیا قرض پروگرام 6 سے 8 ارب ڈالرز اور دورانیہ تین سال یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں