• KHI: Fajr 4:14am Sunrise 5:43am
  • LHR: Fajr 3:19am Sunrise 4:58am
  • ISB: Fajr 3:14am Sunrise 4:58am
  • KHI: Fajr 4:14am Sunrise 5:43am
  • LHR: Fajr 3:19am Sunrise 4:58am
  • ISB: Fajr 3:14am Sunrise 4:58am

کسی کو تھپڑ مارنا بھی ریپ کے برابر ہے، کنگنا رناوٹ کی منطق

شائع June 8, 2024
—فوٹو: انسٹاگرام
—فوٹو: انسٹاگرام

حال ہی میں لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کی رکن منتخب ہونے والی اور بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ نے تھپڑ مارنے کو ریپ جیسا جرم قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ریپ کرنے پر بھی خاموشی اختیار کی جائے گی؟

بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق کنگنا رناوٹ نے خود کو چندی گڑھ کے ایئرپورٹ پر سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورسز (سی ائی ایس ایف) کی خاتون اہلکار کی جانب سے تھپڑ رسید ہونے پر اپنی ٹوئٹ میں سخت رد عمل دیتے ہوئے انہیں تھپڑ پڑنے پر خوش ہونے والے افراد سے سوالات بھی کر ڈالے۔

کنگنا رناوٹ نے انہیں ٹھپڑ رسید ہونے پر خوش ہونے والے افراد کو پیغام دیا کہ وہ ان کے پٹنے پر خوشی منانے کے بجائے مراقبہ کریں، پرسکون رہیں، ورنہ ان کی صحت خراب ہو سکتی ہے۔

اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں خود کو پڑنے والے تھپڑ کو ریپ، قتل اور چوری جیسے جرائم کے برابر قرار دیا۔

نو منتخب رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ چوری، قتل اور ریپ کے مجرم کسی نہ کسی وجہ کے باعث جرم کرتے ہیں، ان کے جرم کے پیچھے ٹھوس دلیل ہوتی ہے لیکن اس باوجود قانون انہیں سزا دیتا ہے، کیوں کہ قانون کی نظر میں ریپ اور قتل جرم ہے۔

اداکارہ نے لکھا کہ اسی طرح تھپڑ مارنا بھی جرم ہے اور تھپڑ کو قبول کرنے والے افراد کیا ریپ کو بھی قبول کریں گے؟ ریپ کے مجرم کے خلاف بھی خاموش رہیں گے؟

کنگنا رناوٹ نے دلیل دی کہ تھپڑ اور ریپ کے دوران رضامندی کے بغیر دوسرے فرد کے جسم کو چھوا جاتا ہے اور اس پر تشدد کیا جاتا ہے اور دونوں کی قانون میں سزا موجود ہے۔

انہوں نے تھپڑ کو معمولی بات سمجھنے والے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا نفسیاتی تجزیہ کریں اور پرسکون رہ کر مراقبہ کریں تاکہ ان کی صحت مزید خراب نہ ہو۔

خیال رہے کہ کنگنا رناوٹ کو 6 جون کو خاتون اہلکار نے چندی گڑھ ایئر پورٹ پر تھپڑ رسید کردیا تھا اور کہا تھا کہ اداکارہ نے ماضی میں کسانوں کے احتجاج کے خلاف نامناسب بیان دیا تھا، جس پر انہیں اداکارہ پر غصہ تھا۔

خاتون اہلکار کے مطابق کنگنا رناوٹ نے کہا تھا کہ احتجاج کرنے والے کسان دہشت گرد ہیں اور وہ 100 روپے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

خاتون اہلکار کا کہنا تھا کہ کسانوں کے احتجاج میں ان کی والدہ بھی موجود رہتی ہیں کیوں کہ ان کی والدہ کسان ہیں اور وہ 100 روپے کے لیے احتجاج نہیں کرتیں اور نہ ہی دہشت گرد ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 20 جون 2024
کارٹون : 17 جون 2024