کراچی: موبائل چھیننے کے دوران شہری کو قتل کرنے والے ملزم کو سزائے موت

شائع July 14, 2024
—فائل فوٹو: اے پی
—فائل فوٹو: اے پی

کراچی کی سیشن عدالت نے شہری کو موبائل فون چھیننے کی کوشش پر مزاحمت کے دوران قتل کرنے والے اسٹریٹ کرمنل کو سزائے موت سنادی، جب کہ مجرم کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی اور 3 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ (ویسٹ) کے پریذائیڈنگ آفیسر اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیر الدین نے ملزم شکور خان کو 25 ستمبر 2018 کو بلدیہ ٹاؤن میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک نوجوان کے قتل کا مجرم قرار دیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی کبھی ایک ترقی کرتا ہوا شہر تھا لیکن اسٹریٹ کرائم میں اضافہ پریشان کن ہے، اور خاص طور پر ڈکیتی مزاحمت پر شہریوں کو قتل کرنے کی کارروائیوں سے نہ صرف کراچی کے رہائشی عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں بلکہ ان واقعات نے اس شہر کی ساکھ کو بھی داغدار کیا ہے۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شہر کی رونق برقرار ہے جو اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات سے تیزی سے معدوم ہوتی جارہی ہے، جب کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کیا جاتا ہے، جس سے عوام کے اعتماد میں کمی آتی ہے۔

جج نے کہا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں، جس میں عدالتی نظام میں ڈکیتی اور ڈکیتی مزاحمت کے مقدمات کے فوری اور منصفانہ فیصلے پر توجہ دی جائے، ان جرائم کی روک تھام کے لیے مناسب اور بروقت سزاؤں کا نفاذ ایک اہم پیغام دے گا۔

عدالت نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ان اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کراچی میں ماضی کی طرح امن قائم ہوسکے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔

جج نے کیس سے متعلق اپنے ریمارکس میں کہا کہ مجرم نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موبائل فون چھینتے ہوئے 21 سالہ نوجوان کو قریب سے گولی مارکر قتل کیا۔

دوران سماعت استغاثہ نے 2 عینی شاہدین سمیت 15 گواہوں سے جرح کی اور ان کی شہادتوں کی میڈیکل رپورٹس، برآمد شدہ گولیوں اور ملزم کی موٹرسائیکل کی تصدیق کی، جو ملزم واردات کے بعد موقع پر چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔

دوران سماعت ایسے کوئی بھی شواہد موجود نہیں تھے جو ملزم کو سزا دینے سے روک سکیں کیوں کہ اس نے مزاحمت پر جان بوجھ کر مقتول پر قریب سے گولی چلائی، ایسے حالات میں سزائے موت ایک مناسب سز ا ہے، جو ڈکیتی کے دوران قتل کے ایسے گھناؤنے جرائم کو روکنے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

عدالت نے ملزم کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 397 (چوری یا ڈکیتی، موت یا سنگین نوعیت کی چوٹ پہنچانے کی کوشش) اور 392 (ڈکیتی کی سزا) کے تحت ہونے والے جرائم کے لیے مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا بھی سنائی۔

عدالت نے مجرم کو مقتول کے قانونی ورثا کو 3 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم کے شریک ملزم جو اس وقت مفرور ہیں، اس کی گرفتاری تک مقدمہ کو غیرفعال فائل میں رکھا جائے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے دائمی وارنٹ جاری کیے جائیں۔

جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کے حق میں ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حقیقیت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فوجداری قانون کے عمل کا مقصد سچائی سے پردہ اٹھانا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صرف مجرموں کو ہی سزائی جائے اور بے گناہوں کو غلط طور پر سزا نہ ملے۔

استغاثہ کے بیان مطابق مقتول اپنے 2 دوستوں کے ہمراہ بلدیہ ٹاؤن میں اپنے گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ اس دوران ملزم اپنے مفرور ساتھی شوکت کے ہمراہ وہاں پہنچا اور پستول دکھا کر موبائل فون کا مطالبہ کیا، تاہم مقتول کی جانب سے مزاحمت پر مجرم شہری کو گولی مار کر فرار ہوگیا۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026