ماضی کا مقدمہ کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کی وجہ نہیں ہوسکتا، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ پنجاب کو ماضی کے مقدمے (جس میں وہ بری ہوچکا) کا حوالہ دیے بغیر شہری کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت دے دی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار عبدالرحمٰن فریاد نے محکمہ داخلہ کے 3 جون 2025 کے اس خط کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا، جس میں ان کی کریکٹر سرٹیفکیٹ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، حالانکہ وہ پنجاب پروہیبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2001 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت درج مقدمے میں بری ہو چکے تھے۔
متنازع خط میں محکمہ داخلہ نے پولیس رولز 1934 کے رول 24.5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر اور اس کا اندراج ایک مستقل ریکارڈ ہے، جسے 60 سال تک محفوظ رکھنا لازم ہے، لہٰذا کسی بھی شخص کے خلاف درج ایف آئی آر کا ریکارڈ حذف نہیں کیا جا سکتا۔
ایک صوبائی لا افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے ڈیٹا کو برقرار رکھنا، جب تک یہ قانونی انتظامی استعمال تک محدود ہے اور کسی شخص کے حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے نہ ظاہر کیا جائے اور نہ ہی غلط استعمال کیا جائے، آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالت کے فیصلے میں جسٹس عبہر گل خان نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار پر لگائے گئے الزامات میں نہ تو اخلاقی پستی کا عنصر شامل تھا اور نہ ہی یہ ریاست کے خلاف کسی جرم سے متعلق تھے۔
جج نے قرار دیا کہ جب کوئی شخص بری ہو جائے اور یہ حکم حتمی شکل اختیار کر لے، تو کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے ایسے عمل جو اس شخص کو بدستور مجرمانہ الزام سے جوڑتے رہیں، نہ صرف اس بریت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ منصفانہ رویے، عزتِ نفس اور بے گناہی کے اصول کو بھی مجروح کرتے ہیں۔
جج نے کہا کہ محض ایف آئی آر کے اندراج یا مقدمہ چلنے کی بنیاد پر، جب وہ کارروائی ایک غیر چیلنج شدہ بریت پر ختم ہو چکی ہو، کسی شخص کے بارے میں کوئی منفی تاثر قائم کرنا یا اس پر داغ لگانا قانونی طور پر ناجائز ہے۔
جسٹس عبہر گل نے درخواست منظور کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار کے حق میں ایسا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کریں جو ان کی موجودہ قانونی حیثیت کو درست طور پر ظاہر کرے۔












لائیو ٹی وی