فلسطینی تنظیم کے حق میں مظاہرہ، لندن میں گرفتاریوں کا 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
لندن میں پابندی کا سامنا کرنے والی تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کے حق میں مظاہرے پر 474 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ 466 مظاہرین کو ’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا، 5 کو پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے پر، 2 کو عوامی نظم کی خلاف ورزی پر، اور ایک کو نسلی طور پر مشتعل جرم پر حراست میں لیا گیا۔
مغربی منسٹر کے پارلیمنٹ اسکوائر میں ’ڈیفینڈ آور جیوریز‘ کے زیرِاہتمام مظاہرے میں، درجنوں افراد نے ایک ہی وقت میں ہاتھ سے لکھے ہوئے پوسٹر اٹھائے جن پر لکھا تھا کہ ’میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں‘۔
یہ جولائی میں حکومت کی جانب سے دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی لگائے جانے کے بعد کا سب سے بڑا احتجاج تھا، اس قانون کے تحت اس تنظیم کی رکنیت یا اس کی حمایت ایک مجرمانہ فعل ہے، جس کی سزا 14 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
وزیرِ داخلہ یویٹ کوپر نے پولیس کے ردعمل کو سراہا، جب کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان اجتماعی گرفتاریوں کو ’انتہائی تشویش ناک‘ قرار دیا ہے۔
مظاہرے کے مقام سے حاصل ہونے والی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ پولیس افسران مظاہرین کے درمیان جا رہے ہیں، جو زیادہ تر زمین پر بیٹھے تھے، ان سے بات کر رہے ہیں اور پھر انہیں لے جا رہے ہیں۔
جن مظاہرین کی شناخت پروسیسنگ کے دوران ہو گئی، انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور شرط رکھی گئی کہ وہ فلسطین ایکشن کی حمایت میں مزید کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے۔
جو لوگ اپنی شناخت بتانے سے انکار کرتے یا جن کی شناخت ممکن نہ ہوتی، انہیں حراست میں لے لیا جاتا۔

بہت سے مظاہرین میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن ایک خاتون نے ’بی بی سی‘ کو بتایا کہ اگر وہ فلسطین ایکشن پر پابندی لگا سکتے ہیں تو اگلا کون سا گروپ ہو گا؟ یہاں تک کہ ہمیں کسی بھی چیز پر احتجاج کرنے کی اجازت ہی نہ رہے، یہ تو جمہوریت کے بر خلاف ہے۔
مظاہرے میں شریک 27 سالہ کلاڈیا پینا-روجاس نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی گرفتاری چاہتا ہے، لیکن مجھے اس سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ فلسطین میں لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور میں خاموش تماشائی بننے سے انکار کرتی ہوں۔
86 سالہ جیکب ایکلسٹن نے کہا کہ میں آزادیِ اظہار پر یقین رکھتا ہوں، جو کچھ یہ حکومت کر رہی ہے وہ انتہائی آمرانہ ہے اور بہت خطرناک بھی۔
پولیس کے مطابق جب مظاہرہ شروع ہوا تو پارلیمنٹ اسکوائر میں 500 سے 600 افراد موجود تھے، لیکن ان میں سے بہت سے صرف تماشائی، میڈیا یا ایسے لوگ تھے جو فلسطین ایکشن کے حق میں بینر نہیں اٹھائے ہوئے تھے۔
مظاہرین صبر سے اپنی باری کا انتظار کرتے رہے، کچھ نے خاموشی سے واک آؤٹ کر لیا، جو لوگ حرکت کرنے سے انکار کر رہے تھے، زمین پر لیٹ گئے، انہیں پولیس اٹھا کر لے گئی، جب کہ ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر ’شرم کرو‘ کے نعرے لائے۔
یہ مظاہرہ اس وقت ہوا جب چند دن قبل ہی انگلینڈ اور ویلز میں اس گروپ کی حمایت کے الزام میں پہلی مرتبہ 3 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
وزیرِ داخلہ یویٹ کوپر نے کہا کہ فلسطینی حقوق کے احتجاجات کے دوران انتہائی کم لوگ ایسے تھے جن کے اقدامات نے قانون شکنی کی حد پار کی، اور فلسطین ایکشن پر پابندی کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پابندی سنگین حملوں اور آئندہ حملوں کے منصوبوں کی وجہ سے لگائی گئی، جن کی تفصیلات قانونی کارروائی کے باعث ابھی عوامی نہیں کی جا سکتیں۔
شیڈو وزیرِ داخلہ کرس فلپ نے کہا کہ فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے والے مظاہرین کو قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا چاہیے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو ساشا دیشمکھ نے کہا کہ پارلیمنٹ اسکوائر کے مظاہرین تشدد پر اکسا نہیں رہے تھے، اور انہیں دہشت گردوں کے طور پر برتنا سراسر غیر متناسب اور مضحکہ خیز ہے۔
تنظیم ’ڈیفینڈ آور جیوریز‘ کا کہنا ہے کہ احتجاج میں ایک ہزار سے زائد لوگ بینرز اٹھائے ہوئے تھے، لیکن پولیس نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطین ایکشن اور کارڈ بورڈ سائن اٹھانے والے لوگ عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔
فلسطین ایکشن کے اس احتجاج کے علاوہ، وسطی لندن میں فلسطین کولیشن اور پرو-اسرائیلی گروپ ’اسٹاپ دی ہیٹ‘ کی جانب سے مسلسل 2 دن تک مارچ بھی منعقد ہونے والے ہیں۔
پابندی لگائے جانے کے بعد سے ملک بھر میں اب تک 200 سے زائد افراد کو اسی الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
جولائی کے آخر میں ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ فلسطین ایکشن خود پر لگی پابندی کو چیلنج کر سکے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندی درست ہے، کیوں کہ یہ ایک ایسے گروپ کو نشانہ بناتی ہے جو سنگین غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔
پارلیمنٹ نے اس گروپ کو اس وقت کالعدم قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جب جون میں کارکنان نے آر اے ایف بریز نارٹن میں گھس کر 2 طیاروں پر سرخ رنگ کا اسپرے کیا اور 70 لاکھ پاؤنڈ کا نقصان پہنچایا، اس واقعے کی ذمہ داری فلسطین ایکشن نے قبول کی تھی۔












لائیو ٹی وی