روس کا ’جنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں‘، یورپی رہنماؤں کا ٹرمپ پیوٹن ملاقات پر ردِعمل

شائع August 16, 2025
— فوٹو: سی این این/اے پی
— فوٹو: سی این این/اے پی

یورپی یونین کے اہم رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے بعد خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماسکو جنگ کو جلدی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق الاسکا سربراہی اجلاس کے بعد یورپی کمیشن کی نائب کاجا کالاس نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ کا امن معاہدہ حاصل کرنے کا عزم انتہائی اہم ہے، یورپی یونین اور ہمارے یورپی شراکت داروں نے الاسکا اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کام کیا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ روس کا اس جنگ کو جلد ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیین نے ایکس پر لکھا کہ الاسکا میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ۔ یورپی یونین، صدر زیلینسکی اور امریکا کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے کام کر رہی ہے، مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں جو یوکرینی اور یورپی بنیادی سیکیورٹی مفادات کا تحفظ کریں، ضروری ہیں۔

فن لینڈ کے صدرالیگزینڈر سٹب نے ایکس پر لکھا کہ الاسکا میں ہونے والی بات چیت پر بریفنگ دینے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، یوکرین کے لیے مضبوط اور قابلِ بھروسہ سیکیورٹی ضمانتیں پائیدار امن کے لیے ایک اہم عنصر ہیں۔

سابق جرمن سفیر برائے امریکا وولف گانگ اشینگر نے ایکس پر لکھا کہ الاسکا، پیوٹن کو ٹرمپ کے ساتھ ریڈ کارپٹ کا لمحہ ملا، جب کہ ٹرمپ کو کچھ نہیں ملا، جیسا کہ خدشہ تھا، نہ جنگ بندی، نہ امن۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، نتیجہ پیوٹن کے حق میں 0-1، کوئی نئی پابندیاں نہیں، یوکرینیوں کے لیے، کچھ نہیں، یورپ کے لیے شدید مایوسی۔

اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ایک بیان میں کہا کہ آخر کار یوکرین میں امن پر بات چیت کے لیے ایک امید کی کرن روشن ہوئی ہے، اٹلی اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے اوسلو میں صحافیوں کو بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وہی پرانے دلائل دہرائے، مثلا جنگ کی نام نہاد ’بنیادی وجوہات‘ پر زور دینا، جو دراصل یوکرین پر غیر قانونی حملے کا روسی جواز ہے۔

ہمارا مؤقف واضح ہے، ضروری ہے کہ ہم روس پر دباؤ برقرار رکھیں بلکہ اسے مزید بڑھائیں تاکہ روس کو یہ واضح پیغام ملے کہ اسے ِاس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا کہ میں امریکا اور یورپ کی طرف سے یوکرین کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کے عزم کا خیرمقدم کرتا ہوں، یہ ایک اہم پیشرفت ہے اور پیوٹن کو مزید جارحیت سے روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایکس پر لکھا کہ ہم صدر ٹرمپ اور صدر زیلینسکی کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ اپنے مفادات کو اتحاد اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ محفوظ بنا سکیں، فرانس یوکرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026