بولڈ ڈراموں کا قومی ٹی وی پر نشر ہونا درست نہیں، معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، محسن گیلانی
سینئر اداکار، ہدایتکار اور براڈکاسٹر محسن گیلانی نے کہا ہے کہ بولڈ کہانیوں کو قومی ٹی وی پر نشر کرنا درست نہیں کیونکہ ایسے ڈرامے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔
محسن گیلانی نے حال ہی میں ’سنو ٹی وی‘ کے پروگرام ’سنو تو سہی‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے کہا کہ کچھ موضوعات ٹیلی ویژن پر نہیں دکھائے جانے چاہئیں۔
ڈراما سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ کس طرح ایک شادی شدہ مسلمان اور پاکستانی خاتون اپنے شوہر اور بچے کو چھوڑ کر عیش و عشرت کے لیے دوسرے مرد کے پاس چلی گئی، یہ سب ٹی وی اسکرین پر کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ڈراما دراصل خلیل الرحمٰن قمر کے ایک اور ڈرامے کی کاپی ہے، اس ڈرامے میں بابر علی اور ماریہ واسطی نے کام کیا تھا اور اس کا نام ’بیوپار‘ تھا، یہی کہانی بعد میں ’میرے پاس تم ہو‘ کے طور پر پیش کی گئی اور یہ کوئی نیا اسکرپٹ نہیں تھا۔
اداکار کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے بھی خوش نہیں ہیں کہ اتنی بولڈ کہانی کے ساتھ یہ ڈراما قومی ٹیلی ویژن پر چلایا گیا، کیونکہ ٹی وی ایک فیملی اسکرین ہے اور وہاں ایسے موضوعات پر مبنی ڈرامے نہیں دکھانے چاہئیں۔
محسن گیلانی کے مطابق وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ معاشرے میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن ایسے موضوع پر ڈرامے نہیں بلکہ فلم بننی چاہیے تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہدایت کار ندیم بیگ اس پر فلم بنانا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے یہ کہانی کافی عرصے تک رکی رہی۔
محسن گیلانی کو یہ بھی لگتا ہے کہ ایسے ڈرامے نہیں بنانے چاہئیں جن میں یہ دکھایا جائے کہ لڑکی کے ساتھ اس کے قریبی رشتے دار کے گھر کچھ غلط ہو رہا ہو، کیونکہ ان ڈراموں کے ذریعے سے رشتوں پر سے اعتبار ختم ہورہا ہے۔












لائیو ٹی وی