یوکرین جنگ بندی کے معاملے پر چند دنوں میں مذاکرات کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ

شائع September 3, 2025 اپ ڈیٹ September 4, 2025
— فوٹو: رائٹرز
— فوٹو: رائٹرز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں یوکرین کی جنگ کے حوالے سے مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کیونکہ اگست میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ الاسکا میں ہونے والی ان کی سربراہی ملاقات کسی پیشرفت کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ اس بات پر مایوس ہیں کہ وہ جنگ ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جو فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے شروع ہوئی تھی، انہوں نے عہدہ سنبھالتے وقت جنوری میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ جنگ کو جلد ختم کرا دیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے فون پر بات کرنے کی توقع ہے۔

ادھر، فرانسیسی صدراتی دفتر نے کہا کہ کئی یورپی رہنما بشمول زیلنسکی اور ایمانوئل میکرون جمعرات کی دوپہر ٹرمپ کو فون کریں گے۔

یہ کال ایک زیادہ تر ورچوئل اجلاس کے بعد متوقع ہے، جس کی میزبانی فرانس کرے گا، جہاں تقریباً 30 ممالک جمعرات کو اکٹھے ہوں گے تاکہ اس بارے میں بات کریں کہ روس کے ساتھ امن معاہدہ ہونے کے بعد یوکرین کو سلامتی کی مدد کیسے فراہم کی جائے۔

یورپی رہنماؤں سے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ماسکو کی مذاکرات نہ کرنے کی ہٹ دھرمی کی مذمت کریں گے۔

پیوٹن نے جنگ ختم کرنے میں کم دلچسپی ظاہر کی تھی، حالانکہ 16 اگست کو الاسکا کے شہر اینکریج میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں نے پیش رفت کی امید ظاہر کی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں پولینڈ کے صدر کیرول نَوروکی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے پاس صدر پیوٹن کے لیے کوئی پیغام نہیں، وہ جانتے ہیں کہ میرا مؤقف کیا ہے، اور وہ ایک یا دوسری طرح سے فیصلہ کریں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا، ہم اس سے خوش ہوں گے یا ناخوش، اور اگر ہم ناخوش ہوئے تو آپ دیکھیں گے کہ پھر کیا ہوگا۔

ٹرمپ نے وضاحت نہیں کی کہ ان کا مطلب کیا ہے، لیکن وہ روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے امکان کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کیف کو کہا کہ یوکرین کے پاس موقع ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرے، یہ ان کا پسندیدہ راستہ ہے، لیکن اگر جنگ کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کا واحد راستہ ہے، تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

چین کے دورے کے اختتام پر بات کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ انہیں ’سرنگ کے آخر میں روشنی‘ دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ امریکا کی جانب سے یورپ کی دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی زمینی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر عقلِ سے کام لیا جائے تو اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک قابل قبول حل پر اتفاق کیا جا سکتا ہے، یہ میرا اندازہ ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ہم صدر ٹرمپ کے تحت موجودہ امریکی انتظامیہ کا رویہ دیکھ رہے ہیں، اور ہم صرف ان کے بیانات ہی نہیں بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ان کی مخلصانہ خواہش بھی دیکھ رہے ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026