پاکستان کے آسمان پر 7 ستمبر کو دلکش چاند گرہن کا نظارہ ہوگا، اسپارکو
پاکستان کے آسمان پر 7 ستمبر (کل) کی رات دلکش چاند گرہن کا نظارہ ہوگا۔
اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) کے مطابق چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا سایہ چاند کی سطح پر پڑتا ہے، سورج گرہن کے برعکس چاند گرہن کو آنکھ، دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے دیکھنا بالکل محفوظ ہے۔
اسپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چاند گرہن ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں میں دیکھا جا سکے گا، جبکہ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں موسم صاف ہونے کی صورت میں اس کا واضح مشاہدہ کیا جا سکے گا۔
خلائی ادارے کے مطابق پاکستان میں 7 ستمبر کو دلکش چاند گرہن کا نظارہ ہوگا، چاند گرہن رات 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا اور رات 11:57 منٹ پر عروج پر پہنچے گا، جبکہ چاند گرہن رات ایک بج کر 55 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
چاند گرہن یہ منظر رات کے آخری پہر تک جاری رہے گا، فلکیات کے شوقین افراد، طلبہ اور عام عوام اس دلکش فلکیاتی منظر سے محظوظ ہوسکیں گے۔
اتوار کا یہ چاند گرہن ’خونی چاند‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ اس دوران چاند کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے، جب سورج، زمین اور چاند ایک دوسرے کے بالکل سامنے آ جاتے ہیں تو زمین کا سایہ اپنے قمری سیارے پر پڑنے سے وہ گہرا اور عجیب سرخ دکھائی دیتا ہے، جو صدیوں سے انسانوں کو حیران کرتا آیا ہے۔
شمالی آئرلینڈ کی کوئینز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے ماہر فلکیات رائن ملیگن نے بتایا کہ چاند سرخ اس لیے نظر آتا ہے کیونکہ اس تک پہنچنے والی سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے منعکس اور منتشر ہو کر آتی ہے۔












لائیو ٹی وی