• KHI: Partly Cloudy 23.6°C
  • LHR: Partly Cloudy 18.9°C
  • ISB: Clear 11.9°C
  • KHI: Partly Cloudy 23.6°C
  • LHR: Partly Cloudy 18.9°C
  • ISB: Clear 11.9°C

اسرائیل کے حملے میں بچ جانے والے حماس کے رہنما خلیل الحیہ کون ہیں؟

شائع September 9, 2025 اپ ڈیٹ September 10, 2025
— فوٹو: سوشل میڈیا
— فوٹو: سوشل میڈیا

اسرائیل نے منگل کو قطر میں کیے گئے حملے میں حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جو پچھلے سال اسمٰعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد فلسطینی تنظیم کی مرکزی شخصیت بنتے جا رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ حملہ حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، جن میں خلیل الحیہ بھی شامل ہیں، جو حماس کے غزہ کے جلاوطن سربراہ اور اہم مذاکرات کار ہیں۔ حماس کے دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ گروپ کا دوحہ میں موجود جنگ بندی مذاکراتی وفد اس حملے میں بچ گیا ہے۔

دو سال قبل شروع ہونے والی لڑائی کے دوران جنگ بندی مذاکرات کے مرکز میں رہنے والے خلیل الحیہ کو اسمٰعیل ہنیہ کی جولائی 2024 میں ایران میں اسرائیل کے ہاتھوں شہادت کے بعد بیرونِ ملک حماس کی سب سے بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

وہ پانچ رکنی قیادت کونسل کا حصہ ہیں جو پچھلے سال اکتوبر میں اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں یحیٰی سنوار کی شہادت کے بعد سے حماس کی قیادت کر رہی ہے۔

غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے خلیل الحیہ نے اسرائیلی حملوں میں اپنے کئی قریبی رشتہ دار کھوئے ہیں، جن میں ان کا بڑا بیٹا بھی شامل ہے، اور وہ حماس کے پرانے رکن ہیں۔

ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والے خلیل الحیہ کئی جنگ بندی معاہدوں کی کوششوں میں براہِ راست شامل رہے ہیں، اور انہوں نے 2014 کے تنازع کے خاتمے اور موجودہ غزہ جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

1960 میں غزہ کی پٹی میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ 1987 میں حماس کے قیام کے وقت سے اس کا حصہ ہیں، حماس کے ذرائع کے مطابق 1980 کی دہائی کے اوائل میں وہ اخوان المسلمون میں شامل ہوئے تھے، جو ایک سنی اسلامی تحریک ہے جس سے حماس نے جنم لیا، اور ان کے ساتھ اسمٰعیل ہنیہ اور یحیٰی سنوار بھی شامل تھے۔

غزہ میں، خلیل الحیہ کو اسرائیل نے کئی بار قید بھی کیا۔

2007 میں اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ان کے کئی رشتہ دار شہید ہوگئے تھے، 2014 کی لڑائی کے دوران اسرائیل نے ان کے بڑے بیٹے اسامہ کے گھر پر بمباری کی، جس میں وہ، ان کی اہلیہ اور تین بچے شہید ہوئے تھے۔

خلیل الحیہ ان حملوں کے وقت وہاں موجود نہیں تھے، وہ کئی سال قبل غزہ چھوڑ چکے تھے تاکہ عرب اور اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات کے لیے حماس کے نمائندے کے طور پر کام کر سکیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قطر میں رہائش اختیار کی تھی۔

خلیل الحیہ جولائی میں اسمٰعیل ہنیہ کے ساتھ تہران بھی گئے تھے، جس دورے کے دوران اسمٰعیل ہنیہ کو شہید کردیا گیا تھا۔

’محدود کارروائی‘

خلیل الحیہ کے حوالے سے یہ بیان کہا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ 7 اکتوبر کے وہ حملے جنہوں نے غزہ تنازع کو بھڑکایا، حماس کی جانب سے صرف ایک محدود کارروائی کے طور پر کیے گئے تھے تاکہ ’ چند فوجیوں’ کو گرفتار کرکے ان کے بدلے میں قیدی فلسطینیوں کو رہا کروایا جاسکے۔

انہوں نے فلسطینی انفارمیشن سینٹر میں شائع تبصروں میں کہا کہ’ لیکن صیہونی فوجی یونٹ مکمل طور پر ڈھیر ہو گئی،’ اس سے مراد اسرائیل کی فوج تھی۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں حملہ آوروں نے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کیا اور مزید 250 کو اغوا کیا، اس کے بعد سے اسرائیل کے ظالمانہ حملوں میں غزہ میں 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔

خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ اس حملے نے فلسطینی مسئلے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

خلیل الحیہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ثالثی مذاکرات میں حماس کے وفود کی قیادت کی تھی، جس میں اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہوتا۔

انہوں نے حماس کے لیے دیگر اعلیٰ سطح کے سیاسی کام بھی انجام دیے ہیں، 2022 میں انہوں نے حماس کے ایک وفد کی قیادت کی تھی جو سابق شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے دمشق گیا تھا، یہ تعلقات ایک دہائی پہلے اس وقت ٹوٹ گئے تھے جب حماس نے بشار الاسد کے خلاف بڑی حد تک سنی بغاوت کی حمایت کی تھی، جو اقلیتی علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ خلیج ایک ایسے علاقائی اتحاد میں تناؤ کا باعث بنی تھی جو ایران نے اسرائیل اور امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 10 فروری 2026
کارٹون : 8 فروری 2026