’جنریشن زی‘ کا احتجاج، نیپالی وزیراعظم کے استعفے کے بعد اب کیا ہوگا؟
نیپال میں کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 19 افراد کی اموات کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اویلی مستعفی ہوگئے جس کے بعد ملک سیاسی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا ہے ۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق غریب ہمالیائی ملک ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور ’جنریشن زی‘ کے احتجاج کے نتیجے میں وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد نیپال میں کیا ہوسکتا ہے۔
فوری اگلا قدم کیا ہے؟
نیپال کی فوج نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ کوئی حل نکالا جا سکے۔
چونکہ مظاہرین میں زیادہ تر ’جنریشن زی‘ کے نوجوان شامل ہیں (یعنی وہ جو 1997 اور 2012 کے درمیان پیدا ہوئے) اور ان میں کوئی ایک لیڈر بھی نہیں ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ حکام کس سے بات کریں۔
سپریم کورٹ کے سابق جج اور آئینی ماہر بالارام کے سی نے کہا کہ جنریشن زی کو ایک مذاکراتی ٹیم بنانی چاہیے اور ملک کے صدر کو اس ٹیم کے علاوہ سول سوسائٹی کے اراکین اور فوج سمیت دیگر فریقین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔
آئین کیا کہتا ہے؟
نیپال کے 2015 کے آئین کے تحت، جانشین اسی پارٹی سے آنا چاہیے جس کے پاس پارلیمان میں اکثریت ہو۔
اگر کسی پارٹی کے پاس اکثریت نہ ہو تو صدر ایسے رکن کو نامزد کریں گے جو اکثریت حاصل کر سکے، انہیں 30 دن کے اندر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔
اگر وہ اس میں ناکام رہتے ہیں تو کوئی دوسرا رکن جس کے پاس نمبر ہونے کا دعویٰ ہو، نامزد کیا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ بھی اعتماد کا ووٹ نہ لے سکے تو ایوان تحلیل کیا جاسکتا ہے اور نئے انتخابات ہوں گے۔
چونکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما مظاہرین کی نظر میں بدنام ہو چکے ہیں اور کئی چھپے ہوئے ہیں، اس لیے یہ غیر یقینی ہے کہ مظاہرین اس عمل کو قبول کریں گے یا نہیں۔
کیا عبوری حکومت ممکن ہے؟
اگرچہ آئین میں عبوری حکومت کا ذکر نہیں ہے، لیکن ماہرین نے تجویز دی ہے کہ آئینی دفعات کو عارضی طور پر معطل کر کے ایسی حکومت بنائی جائے جو مظاہرین کے نمائندوں کو قابلِ قبول ہو۔
آئینی ماہر بپن ادھیکاری نے کہا ’ایسی حکومت وہ ایجنڈا آگے بڑھا سکتی ہے جو جنریشن زی چاہتی ہے اور 6 ماہ کے اندر نیا پارلیمانی انتخاب بھی کروا سکتی ہے۔
جنریشن زی کسے ترجیح دے گی؟
ان میں ایک نمایاں نام بالن در شاہ ہے، جو 35 سالہ ریپر اور موسیقار ہیں اور 2022 میں کٹھمنڈو کے میئر منتخب ہوئے، وہ نوجوانوں میں مقبول ہیں کیونکہ انہوں نے شہر کو صاف کرنے کے اقدامات کیے۔
ایک اور ممکنہ امیدوار ایک صحافی روی لیماچانے ہیں، جو وہ 2022 میں سیاست میں آئے اور اپنی پارٹی ’راشٹریہ سواتنتر پارٹی‘ قائم کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے منگل کو روی لیماچانے کو جیل سے نکال لیا، جہاں وہ فنڈز کے غلط استعمال کے مقدمے میں کیس کا سامنا کررہے تھے۔
کیا نیا آئین بنایا جا سکتا ہے؟
نیپال نے 2008 میں بادشاہت کو ختم کر دیا تھا اور 2015 میں نیا آئین اپنایا، حالانکہ اس چارٹر کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مظاہرین آئین کو دوبارہ لکھنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں، موجودہ آئین ترامیم کی اجازت دیتا ہے، لیکن ان کی منظوری پارلیمان سے لینی ہوگی۔












لائیو ٹی وی