ایران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں معاہدہ طے، نکات پر اختلافی بیانات سامنے آگئے
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کے نئے تعاون کے فریم ورک میں اسلامی جمہوریہ کی ’تمام تنصیبات اور سہولتیں‘ شامل ہیں، تاہم ایران نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ از خود رسائی پیدا نہیں کرتا۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے منگل کو آئی اے ای اے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، یہ پیشرفت جون میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں تعاون معطل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی حملوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، اس کے بعد سے آئی اے ای اے کو ایٹمی تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ معاہدے کی دستاویز معائنوں کے طریقہ کار کے لیے ایک واضح سمجھ بوجھ فراہم کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’تمام تنصیبات‘ کا احاطہ کرتا ہے، جب کہ ایران کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تنصیبات کے معائنوں کے لیے علیحدہ مذاکرات ہوں گے۔
رافیل گروسی نے ویانا میں ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ایران کی تمام تنصیبات اور سہولتیں شامل ہیں، اور اس میں ان تمام متاثرہ تنصیبات پر رپورٹنگ بھی شامل ہے، جن میں وہاں موجود جوہری مواد بھی شامل ہے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کی حد کو کم کر کے پیش کیا اور کہا کہ معاہدہ بذاتِ خود آئی اے ای اے معائنہ کاروں کے لیے رسائی پیدا نہیں کرتا۔
عراقچی نے بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ فی الحال آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو کوئی رسائی نہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران بعد میں جو رپورٹس فراہم کرے گا، ان کی بنیاد پر رسائی کی نوعیت وقت کے ساتھ ساتھ طے کی جائے گی۔
حالیہ معائنہ دیگر کلیدی مقامات، بشمول فردو اور نطنز، جنہیں جون کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا، تک رسائی پر مشتمل نہیں تھا۔
رافیل گروسی نے بورڈ کے اجلاس میں کہا کہ ایران اور ایجنسی اب ایک باعزت اور جامع طریقے سے تعاون دوبارہ شروع کریں گے، عملی اقدامات اب نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یقیناً مشکلات اور مسائل پیش آسکتے ہیں، لیکن اب ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔












لائیو ٹی وی