• KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C

دیہی علاقوں کے ساتھ صنعتی مراکز بھی سیلاب کی لپیٹ میں، اربوں ڈالر کا نقصان

شائع September 23, 2025
فوٹو: ڈان نیوز
فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان میں شدید سیلاب نے دہائیوں میں پہلی بار دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ صنعتی مراکز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے اربوں ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں اور خوراک کی فراہمی، برآمدات اور نازک معاشی بحالی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت 2026 کے لیے پرامید تھی، اس نے زرعی اور صنعتی بحالی کے بل بوتے پر 4.2 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا تھا کیونکہ معیشت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ کے تحت مستحکم ہو گئی تھی۔

اس کے برعکس، جون کے آخر سے ہونے والی ریکارڈ مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں کے پانی چھوڑنے س پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقے زیر آب آچکے ہیں۔

کئی علاقوں میں پانی اب تک نہیں اترا، ایسے میں حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت اور صنعت دونوں کو لگنے والے دہرے جھٹکوں کی وجہ سے نقصان 2022 سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جب ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔

میدانی علاقوں کی سیٹلائٹ تصاویر نے اس تباہی کا پیمانہ واضح کر دیا ہے۔ زرعی نگرانی کے ادارے جی او گلام (GEOGLAM) کی ایک رپورٹ کے مطابق یکم اگست سے 16 ستمبر کے درمیان کم از کم دو لاکھ 20 ہزار ہیکٹر دھان کے کھیت زیرِ آب آ گئے۔

پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 18 لاکھ ایکڑ زرعی زمین ڈوب گئی ہے۔

پاکستان فارمرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خالد بَتھ نے کہا کہ’ تقریباً 50 فیصد دھان اور 60 فیصد کپاس اور مکئی کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ نقصان 25 لاکھ ایکڑ سے بڑھ سکتا ہے جس کی مالیت ایک کھرب روپے تک ہو سکتی ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر اقرار احمد خان نے کہا کہ’ یہ صورتحال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی۔’

ان کا تخمینہ ہے کہ ملک کی کم از کم دسویں حصے کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں سبزیوں کا نقصان 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

یہ وقت نہایت نازک ہے: پاکستان گندم بونے والا ہے، وہ فصل جو ملک کی نصف کیلوریز فراہم کرتی ہے۔ کراپ مانیٹر کے مطابق 2024 کی مضبوط پیداوار کے بعد قومی ذخائر تسلی بخش ہیں لیکن ان کھیتوں میں اگلی فصل کیسے لگے گی جو ابھی تک گاد اور کیچڑ سے بھرے ہوئے ہیں۔

اقرار احمد خان نے خبردار کیا کہ’ خوراک کی عدم دستیابی آنے والی ہے، صرف قیمتیں بڑھنے والی نہیں ہیں۔’

خطرات کم بتانا

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے تسلیم کیا کہ سیلاب جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو پیچھے لے جائے گا اور کہا کہ دو ہفتوں میں نقصانات کا واضح تخمینہ تیار ہو جائے گا۔

ملک کے مرکزی بینک نے کہا کہ یہ طوفانی بارشیں ’ عارضی لیکن نمایاں سپلائی شاک’ پیدا کریں گی اور شرح نمو کو اپنی 3.25 تا 4.25 فیصد کی حد کے نچلے سرے تک لے آئیں گی۔

بینک نے دلیل دی کہ یہ جھٹکا 2022 کی 30 ارب ڈالر کی تباہی سے کم شدید ہوگا کیونکہ اب زرِمبادلہ کے ذخائر زیادہ ہیں اور شرح سود کم ہیں۔

تاہم گندم، چینی، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے حساس قیمت انڈیکس 26 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے نمائندہ مہیر بینچی نے کہا کہ توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے آئندہ جائزے میں دیکھا جائے گا کہ 2026 کا مالی سال بجٹ اور ہنگامی اقدامات ملک کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں یا نہیں۔ احسن اقبال نے آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ’ ہمارے نقصانات کم کرنے میں مدد کریں۔’

کچھ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز خطرات کو کم کر کے دکھا رہے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا کہ’ سیلاب موجودہ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ میں 7 ارب ڈالر کا اضافہ کرے گا۔ یہ پچھلے سیلابوں سے زیادہ بُرا ہے۔’

نقصانات کا تخمینہ

سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں میں، جو پاکستان کی برآمدات کا سہارا بننے والی ٹیکسٹائل، اسپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات کی صنعتوں کا مرکز ہے ، کئی ورکشاپیں زیرِ آب آ گئیں۔

زراعت کو پہنچنے والا نقصان صنعت کاروں کے لیے بھی دھچکا ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ کپاس کی قلت ٹیکسٹائل سیکٹر کو متاثر کرے گی جو ملک کا سب سے بڑا زرمبادلہ کمانے والا شعبہ ہے، جبکہ چاول برآمد کرنے والے خبردار کر رہے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان بھارت کے مقابلے میں اپنی مسابقت کھو سکتا ہے۔

ملتان کے قریب ایک کسان رب نواز نے کہا کہ’ ہمارے پاس 400 ایکڑ کپاس تھی، لیکن صرف 90 ایکڑ بچی ہے۔’

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 26 جون سے اب تک کم از کم 1,006 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ میں 25 لاکھ سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے۔

لاہور میں گھروں اور چھوٹے کاروباروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026