سلووینیا نے ملک میں اسرائیلی وزیر اعظم کے داخلے پر پابندی عائد کردی
یورپی یونین کے اہم ترین ملک سلووینیا نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطین میں جنگی جرائم کرنے کے الزامات پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی اپنے ملک میں داخلہ پر پابندی عائد کردی۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق سلووینیا کی جانب سے بینجمن نیتن یاہو پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب سے نیتن یاہو کی گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے بعد کیا گیا۔
سلووینیا کی وزارت خارجہ کی عہدیدار نیوا گراسک نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ادارے سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم کی ملک میں داخلے پر پابندی کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان پر جنگی جرائم کا الزام ہے اور عالمی قوانین کے تحفظ کے لیے ان پر پابندی عائد کی گئی۔
سلووینیا تقریبا 20 لاکھ آبادی والا یورپی یونین کا رکن ملک ہے اور گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے اور غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کا سخت ناقد رہا ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف یہ اقدام ملک کی پالیسیوں کو واضح کرنے کے لیے کیا گیا، ماضی میں سلووینیا کی حکومت دو اسرائیلی وزیروں پر بھی پابندی عائد کر چکی ہے۔
سلووینیا نے گزشتہ برس اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اور وزیر خزانہ پر ملک میں داخلے کی پابندی لگائی تھی اور اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
سلووینیا کی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ مذکورہ فیصلہ اسرائیل کو واضح پیغام دیتا ہے کہ سلووینیا بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں اور انسانی حقوق کے قانون کی مسلسل پاسداری کرتا رہے گا۔












لائیو ٹی وی