پنجاب میں سیلاب متاثرین کو ریلیف دے رہے ہیں تو حکومت سندھ کو تکلیف کیوں ہے؟ عظمیٰ بخاری
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کے کسانوں اور گندم پر دکھ کا اظہار کرنے سے پہلے سندھ کی طلب پوری کریں، سیلاب سندھ میں بھی آیا وہاں متاثرین کو کیا ریلیف دے رہے ہیں وہ قوم کو بتائیں؟
ڈان نیوز کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں گندم کی کھپت سندھ سے ڈھائی گنا زیادہ ہے، پنجاب گندم میں 6.63ملین میٹرک ٹن سرپلس ہے جبکہ سندھ کو 3.19 ملین ٹن گندم کے خسارے کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 2024 میں کسانوں کو 55 ارب روپے اور 2025 میں 98 ارب روپے کا ریلیف دیا، پنجاب حکومت کا زراعت کا بجٹ 129.8 ارب روپے ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کسان بھائی کارڈ سے60 ارب روپے سے زائد کی خریداری کرچکے، مریم نواز نے گزشتہ سال کسانوں کو 9 ہزار 500 ٹریکٹر دیے، اور چند ماہ پہلےگندم کیلئے 14 ارب روپے کا سپورٹ پروگرام دیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے کسانوں اور گندم پر دکھ کا اظہار کرنے سے پہلے سندھ کی طلب پوری کریں، پنجاب میں گندم ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتی ہے جبکہ سندھ کو شدید کمی کا سامنا ہے۔
صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کہ پنجاب گندم پیدا کرنے والا بڑا صوبہ ہے اور دیگر صوبوں کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے جبکہ سندھ اپنی آبادی کی ضرورت کے مطابق گندم پیدا نہیں کرپاتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو گندم کی طلب پوری کرنےکیلئے سپلائی درکار ہوتی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کل تک شرجیل میمن اور پیپلزپارٹی سیلاب پر سیاست کررہی تھی، اچھی بات ہے اگر پیپلزپارٹی نے سیلاب پر سیاست کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سندھ میں بھی آیا وہاں متاثرین کو کیا ریلیف دے رہے وہ قوم کو بتائیں؟
وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کو ریلیف دے رہےہیں تو حکومت سندھ کو کیوں تکلیف ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپیلوں پر اعتراض نہیں، دن رات وفاق کو مشورے دیں۔












لائیو ٹی وی