غیر مسلح ہونا ممکن نہیں، حماس ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کر دے گی، سینئر رہنما

شائع October 1, 2025
— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

حماس کے ایک سینئر رہنما نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ تنظیم غالباً ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کر دے گی کیونکہ یہ اسرائیل کے مفادات کی خدمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے مفادات کو نظرانداز کرتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق اس رہنما نے کہا کہ حماس کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کی ایک اہم شرط یعنی غیر مسلح ہونا اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ قبول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق حماس، غزہ میں عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی کی بھی مخالفت کر رہی ہے، جسے وہ ایک نئی قسم کا قبضہ تصور کرتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت کے دوران ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کر لیا تھا، تاہم حماس نے تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس، وائٹ ہاؤس کی تجویز کا ’ذمہ داری کے ساتھ‘ جائزہ لے رہا ہے۔

بی بی سی کو ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ مشاورت میں حماس کی غزہ کے اندر اور باہر موجود دونوں طرح کی قیادت شامل ہے۔

غزہ میں گروپ کے فوجی کمانڈر عزالدین الحداد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مذاکراتی منصوبے کو قبول کرنے کے بجائے لڑائی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

دوسری جانب غزہ سے باہر موجود حماس رہنما حالیہ مذاکرات میں پس منظر میں چلے گئے ہیں کیونکہ ان کے پاس یرغمالیوں پر براہِ راست کنٹرول موجود نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ ختم کرنے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

منصوبے کے تحت تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے درجنوں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے، حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے گا، اسرائیلی فوج بتدریج واپس بلائی جائے گی اور غزہ کی حکمرانی کے لیے ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی قائم کی جائے گی۔

منصوبے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے راستے کا ذکر موجود ہے، لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔

اسرائیلی فوج اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 66 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، مسلسل بمباری نے اس علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں قحط اور بیماریوں نے جنم لیا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 3 فروری 2026
کارٹون : 2 فروری 2026