یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے، ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات

شائع October 18, 2025
— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران کہا کہ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینا قبل از وقت ہوگا، وہ پہلے روس کے ساتھ امن قائم کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امید ہے کہ ہم ٹوماہاک میزائلوں کے بارے میں سوچے بغیر جنگ کو ختم کر سکیں گے اور امید ہے یوکرین کو ان میزائل ضرورت نہیں پڑے گی‘۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ پُراعتماد ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے، خاص طور پر جب انہوں نے ایک روز قبل کریملن کے سربراہ سے فون پر گفتگو کی تھی۔

امریکی اور روسی صدور نے جمعرات کو ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں ایک سمٹ پر اتفاق کیا، جو ان کے اگست میں الاسکا میں ہونے والی ملاقات کے بعد پہلا اجلاس ہوگا، جہاں کسی امن معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

تاہم ٹرمپ کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد واشنگٹن میں ان سے تیسری ملاقات کے لیے آنے والے یوکرینی صدر نے اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پیوٹن ابھی امن کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یوکرین کئی ہفتوں سے واشنگٹن پر زور دے رہا ہے کہ اسے ٹوماہاک میزائل فراہم کیے جائیں، تاکہ ان میزائلوں سے روس پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے اور وہ اپنی ساڑھے 3 سال سے جاری جارحیت ختم کرسکے۔

ولادیمیر زیلنسکی کے دورے سے ایک روز قبل، پیوٹن نے ٹرمپ کو فون پر خبردار کیا تھا کہ ان میزائلوں کی فراہمی جنگ میں شدت لا سکتی ہے اور امن مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ وہ اپنے ٹوماہاک میزائلوں کے ذخائر کو کم نہ کر دے، جو 1600 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین-روس جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے سفارتی مذاکرات الاسکا سربراہی اجلاس کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔

تاہم، اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے اپنی ثالثی سے غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک اور بڑی پیش رفت حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

کریملن نے جمعہ کو کہا تھا کہ پیوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل کئی معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ مذاکراتی ٹیموں میں کون شامل ہوگا۔

فروری میں امریکی اور یوکرینی صدور کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب ٹرمپ نے اوول آفس میں ایک تلخ براہِ راست نشریات کے دوران اپنے یوکرینی ہم منصب پر الزام لگایا تھا کہ وہ سیاسی طور پر کمزور ہیں۔

تاہم اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں نرمی آئی ہے کیونکہ ٹرمپ نے روسی صدر کے رویے پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اس کے باوجود، ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ رابطے کا ایک سفارتی چینل کھلا رکھا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں جب کہ امریکی صدر نے روسی صدر سے ہونے والی فون کالز کے بعد بارہا روس پر پابندیوں اور دیگر اقدامات سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کی ہے۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026