یو کرین کے ڈرون حملے میں روسی گیس پلانٹ میں آگ بھڑک ا ٹھی
یوکرین کے ڈرونز کے ذریعے حملوں کے نتیجے میں روس کے علاقے اورینبرگ میں واقع ایک گیس پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، مقامی گورنر نے اتوار کے روز بتایا کہ حملے کے نتیجے میں ورکشاپ میں آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے کے لیے ریسکیو سروسز کام کر رہی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق گورنر ییوگینی سولتسِیف نے اپنے سرکاری ’ٹیلی گرام‘ چینل پر کہا کہ حملے میں پلانٹ کے کسی ملازم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم پلانٹ کا کچھ حصہ متاثر ہوا ہے۔
سولتسِیف نے اس ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ یوکرینی ڈرونز نے قازقستان کی سرحد کے قریب روسی شہر اورسک میں ایک نامعلوم صنعتی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
یوکرین نے اگست سے روسی ریفائنریوں اور دیگر توانائی کے مراکز پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، تاکہ پیٹرول کی فراہمی میں خلل ڈالا جا سکے اور ماسکو کو مالی وسائل سے محروم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینا قبل از وقت ہوگا، وہ پہلے روس کے ساتھ امن قائم کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امید ہے کہ ہم ٹوماہاک میزائلوں کے بارے میں سوچے بغیر جنگ کو ختم کر سکیں گے اور امید ہے یوکرین کو ان میزائل ضرورت نہیں پڑے گی‘۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ پُراعتماد ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے، خاص طور پر جب انہوں نے ایک روز قبل کریملن کے سربراہ سے فون پر گفتگو کی تھی۔
امریکی اور روسی صدر کی ملاقات بڈاپسٹ میں ہونا طے پائی ہے۔












لائیو ٹی وی