قائمہ کمیٹی کی قومی مفاد کیخلاف چینی برآمد کی اجازت دینے والوں کی نشاندہی کی سفارش
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے چینی بحران پر پیش کردہ اپنی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی، کمیٹی نے ماضی میں قومی مفاد کے خلاف چینی کی برآمدات کی اجازت دینے والے افراد کی نشاندہی کرنے کی سفارش کر دی، کمیٹی نے مسابقتی کمیشن حکام کو طلب کرلیا تاکہ وہ چینی کے شعبے میں کارٹلائزیشن روکنے میں اپنی ناکامی کی وضاحت کر سکے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس محمد جاوید حنیف کی زیر صدارت ہوا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بار بار ہونے والی غلطیوں کے باعث ایک جامع انکوائری ناگزیر ہے، متعلقہ افراد کے خلاف احتساب یقینی بنایا جائے، اس مقصد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ذیلی کمیٹی نے چینی کے شعبے کی ڈی ریگولیشن اور شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ازسرِنو تشکیل کی سفارش کی، جس میں نجی شعبے کی نمائندگی شامل نہ ہو تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کمیٹی نے آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔
چیئرمین جاوید حنیف نے ایک بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی، جس میں وزارتِ تجارت، وزارتِ قومی غذائی تحفظ ،محکمہ تحفظِ نباتات متعلقہ ایسوسی ایشنز اور تکنیکی ماہرین شامل ہوں گے، یہ کمیٹی ایک ہفتے میں فائیٹو سینیٹری شرائط کا جائزہ لے کر پالیسی میں تبدیلی کی سفارش کرے گی۔
چیئرمین نے مزید زور دیا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ٹریٹمنٹ بیسڈ سرٹیفیکیشن اپنایا جائے اور لکڑی کی کھیپوں کی عارضی ریلیز کی اجازت دی جائے تاکہ ڈیمرج نقصانات میں کمی ہو۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے واجبات کے تصفیے کے بارے میں بات کرتے ہوئےچیئرمین نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ تمام متعلقہ فریقین کا فوری اجلاس طلب کر کے واجبات کے تصفیے پر پیش رفت کی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔
کمیٹی نے ایس پی ایس کمپلائنس، چاول کی برآمدات اور کمرشل اٹاشیز کی کارکردگی پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ یورپی یونین میں پاکستانی چاول کی انٹرسیپشنز میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ سمندری خوراک کی برآمدات مالی سال 25-2024 میں 466 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وزارت نے زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کا روڈ میپ، سیکٹورل کونسلز کی تشکیل، اور فارماسیوٹیکل، لیدر، اور ماربل کی برآمدات بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ اجلاس میں نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے، کمیٹی نے کاپر، رئیر ارتھ منرلز، اور ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سعودی عرب اور چین کی دلچسپی ایس آئی ایس سی کے تحت بڑھ رہی ہے، چیئرمین نے سفارش کی کہ مقامی سمیلٹنگ اور ویلیو ایڈیشن منصوبوں پر فیزیبلٹی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔
پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے معاملے پر کمیٹی نے سابق سی ای او کی تنخواہ میں 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 24 لاکھ روپے ماہانہ کرنے کے فیصلے کی مکمل توجیہہ طلب کی، اور ہدایت کی کہ ایس ای سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور کارکردگی پر مبنی جواز پیش کیے جانے تک کوئی ریٹروسپیکٹو ادائیگی نہ کی جائے۔
ایران کے ساتھ تجارت پر گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ پابندیوں کے باوجود دوطرفہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، چیئرمین نے درست رپورٹنگ، بارڈر سہولیات میں بہتری، اور بارٹر ٹریڈ فریم ورک کے تحت بارڈر مارکیٹس کے اجرا کے لیے باہمی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
چیئرمین نے کہا کہ کمیٹی شفاف، شواہد پر مبنی اور کاروبار دوست تجارتی پالیسیوں کے فروغ، فیصلہ سازی میں احتساب اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ تجارتی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے-
ڈیٹا کے تضادات پر گفتگو کے دوران کمیٹی نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ اور پاکستان سنگل ونڈو کے درمیان 11 ارب امریکی ڈالر کے درآمدی اعداد و شمار میں فرق کا جائزہ لیا۔
وزارتِ تجارت نے وضاحت کی کہ یہ فرق محض طریقہ کار کا ہے، کسی مالی بے ضابطگی کا نہیں، چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئی ایم ایف اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک مصالحہ شدہ مؤقف تیار کیا جائے تاکہ سرکاری تجارتی اعدادوشمار میں مطابقت پیدا ہو۔












لائیو ٹی وی