عمر رسیدہ نہیں ہوں، باپ کا کردار ہی ملتا ہے، دوستوں کے باپ کا کردار بھی ادا کرچکا ہوں، شہزاد نواز
سینئر اداکار شہزاد نواز نے ڈراما انڈسٹری میں ملنے والے کرداروں پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ابھی اتنے عمر رسیدہ نہیں ہیں، پھر بھی زیادہ تر انہیں باپ کے کردار ہی دیے جاتے ہیں اور وہ کئی ڈراموں میں اپنی دوستوں کے باپ کا کردار بھی ادا کرچکے ہیں۔
شہزاد نواز نے حال ہی میں ’365 نیوز‘ کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے ڈراما انڈسٹری میں کرداروں کے انتخاب پر کھل کر گفتگو کی۔
اداکار نے کہا کہ ڈراما انڈسٹری میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک اداکار کو مخصوص طرز کے کردار ہی دیے جاتے ہیں، جیسے زیادہ تر ڈراموں میں انہیں باپ کے کردار کی پیشکش کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق وہ کئی ڈراموں میں اپنی دوستوں کے باپ کا کردار بھی ادا کرچکے ہیں۔
انہوں نے انڈسٹری کے ایک عجیب پہلو کی نشاندہی کی کہ اگر کسی شخص کی خوبصورت اور گھنی مونچھیں ہوں تو لوگ اسے تاریخی عظیم جنگجو کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ عام چوہدری یا وڈیرہ کے طور پر ہی دیکھتے ہیں، حالانکہ مونچھیں مرد کی شان سمجھی جاتی ہیں۔
اداکار نے مزید کہا کہ اگر کوئی اپنے بالوں پر مصنوعی رنگ استعمال نہیں کرتا تو لوگ اسے باپ سمجھنے لگتے ہیں، جب کہ ان کی عمر کے دیگر اداکار اب بھی ہیرو کے کردار ادا کر رہے ہیں۔
شہزاد نواز نے یہ شکوہ بھی کیا کہ اکثر ڈراموں میں ان کی زیادہ تر بیویاں وفات پا چکی ہوتی ہیں اور کبھی کبھار ان کی دو بیویاں بھی مار دی جاتی ہیں، جس کا سبب وہ نہیں جانتے۔
اداکار نے کہا کہ اداکار نعمان اعجاز ان سے عمر میں بڑے ہیں لیکن وہ اب بھی ہیرو کے کردار میں نظر آتے ہیں، جب کہ انہیں زیادہ تر والد کے کردار ہی ملتے ہیں اور ان کرداروں میں بھی ان کی زیادہ تر بیویاں وفات پا چکی ہوتی ہیں۔
شہزاد نواز کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ بہت جلد ایک ڈراما بنائیں گے اور اس میں خود کو بطور ہیرو کاسٹ کریں گے کیونکہ اب زیادہ تر لوگ یہی کر رہے ہیں۔












لائیو ٹی وی