ایران میں مظاہروں پر امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعے کو ایران کو خبردار کیے جانے کے بعد کہ اگر وہاں پرامن مظاہرین کو تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی کسی بھی مداخلت کا مطلب پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور امریکا کے مفادات کو تباہ کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا، جیسا کہ ان کی روایت ہے تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے اور مکمل طور پر الرٹ ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پر کہا کہ اسرائیلی عہدیداروں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ پس پردہ کیا چل رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کرنے والے دکانداروں کے مؤقف اور تخریبی عناصر کی کارروائیوں میں فرق کرتے ہیں، اور ٹرمپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگی۔
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جاننا چاہیے کہ اس مہم جوئی کا آغاز ٹرمپ نے کیا ہے اور انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف ایران میں تین برس کے دوران سب سے بڑے مظاہرے مختلف صوبوں میں پرتشدد ہو گئے ہیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں اس احتجاج میں نمایاں شدت کی علامت ہیں جو اتوار کو دکانداروں کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا تھا۔
ایران کی معیشت کو 2018 میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران بین الاقوامی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔












لائیو ٹی وی