’کالے جادو کی وجہ سے قتل کیے‘ کراچی میں چار تشدد زدہ لاشوں کا قاتل گرفتار
کراچی: کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے چار افراد کو قتل کیا، جن کی جزوی طور پر سڑی ہوئی لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں کراچی کے مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک گڑھے سے برآمد ہوئی تھیں۔
پولیس کے مطابق یہ چار لاشیں ایک خاتون اور اس کے تین بچوں کی تھیں، جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے اور انہیں کلہاڑی یا کسی تیز دھار آلے سے مارا گیا تھا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجر کے دفتر کے مطابق کیماڑی پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ساؤتھ اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ مقتولہ خاتون کے موبائل فون کی ڈیجیٹل جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملزم اس کے رابطے میں تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کا مقصد مقتولہ کو مارنا تھا۔
پولیس نے ملزم کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ مقتولہ کا طویل عرصے سے دوست تھا۔ ملزم نے الزام لگایا کہ مقتولہ کالا جادو کرتی تھی اور اکثر اس سے مطالبات کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔
ملزم کے مطابق منگل کی رات اسے کسی کالا جادو کرنے والے کے پاس لے جایا گیا، اور تب اس نے فیصلہ کیا کہ ”یا تو میں خود کو ماروں یا اسے“۔ اس نے خاتون کو قتل کیا اور لاش گڑھے میں پھینک دی۔
اس کے بعد وہ مقتولہ کی ماں کے گھر گیا اور وہاں سے اس کے بچوں کو لیا، جن پر بھی وہ اکثر دباؤ ڈالتی تھی، انہیں بھی قتل کیا اور لاشیں ایک ہی گڑھے میں پھینک دیں۔
ضیاالحسن لنجر کے دفتر نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کیماڑی امجد شیخ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔










لائیو ٹی وی