روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پورے نہ کیے تو امریکا بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نریندر مودی اچھے آدمی ہیں، انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت تجارت کرتا ہے اور ہم ان پر بہت تیزی سے ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔
یہ بیان بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس بیان پر بھارتی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
امریکا نے گزشتہ برس روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری پر بھارت کو سزا کے طور پر بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا۔ تاہم بھاری ٹیرف کے باوجود نومبر میں امریکا کو بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
بہتر تجارتی اعداد و شمار کے بعد بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیے رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں محدود لچک کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے ریفائنریوں سے روسی اور امریکی تیل کی ہفتہ وار خریداری کی تفصیلات طلب کی ہیں اور امکان ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کی کوششوں کے تحت روسی خام تیل کی درآمدات کم ہو کر یومیہ 10 لاکھ بیرل سے نیچے آ جائیں گی۔
ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کم از کم تین مرتبہ فون پر بات چیت ہو چکی ہے، تاہم یہ مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھارتی سیکریٹری تجارت راجیش اگروال نے امریکی نائب تجارتی نمائندے رک سوئٹزر سے دو طرفہ تجارت اور معاشی تعلقات پر بات چیت کی تھی۔











لائیو ٹی وی