قیادت اور پالیسیوں پر مسلسل تنقید سے سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، پی ٹی آئی

شائع January 7, 2026
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مسلسل تنقید نہ صرف سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کے توازن سے متعلق سوالات بھی جنم دیتی ہے۔ فوٹو:اے ایف پی
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مسلسل تنقید نہ صرف سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کے توازن سے متعلق سوالات بھی جنم دیتی ہے۔ فوٹو:اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف نے اپنی قیادت اور پالیسیوں پر کی جانے والی تنقید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردعمل دیا ہے۔

منگل کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی نے ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا، پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پارٹی، اس کی قیادت اور ایک منتخب صوبائی حکومت کو اس نوعیت کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مسلسل تنقید سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے بلکہ ریاستی نظام کے توازن پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔

پارٹی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کسی فوجی آپریشن کی مخالفت کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دینا زمینی حقائق کے منافی ہے۔

پی ٹی آئی نے یاد دلایا کہ 12 نومبر 2025 کو صوبائی حکومت کی جانب سے ایک امن جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جہاں شرکا نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ فوجی آپریشن کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں اور دیرپا امن کے لیے ایک جامع، اتفاقِ رائے پر مبنی اور مشترکہ قومی پالیسی ناگزیر ہے۔

پارٹی نے اس بیان پر بھی اعتراض کیا کہ دہشت گرد پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بناتے۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ بات مکمل طور پر زمینی حقائق کے برعکس ہے، اور ایسے سوالات اٹھانا شہدا، زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں اضافے کا باعث بنے گا۔

پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی سے محفوظ رہی ہے، حقائق سے لاعلمی کا مظہر اور انتہائی افسوسناک ہے۔

پی ٹی آئی نے نشاندہی کی کہ ماضی میں متعدد ریاستی اداروں نے پارٹی کے بانی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے لیے کئی مواقع پر سکیورٹی تھریٹ الرٹس جاری کیے تھے۔

پارٹی نے عمران خان کو بار بار نشانہ بنائے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں نہ تو ملاقاتوں کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق ایک ایسے سیاسی رہنما پر سرِعام تنقید کرنا جو ناحق قید میں ہو، جو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم ہو اور جس کی آواز دانستہ طور پر دبائی جا رہی ہو، کسی بھی طور مناسب نہیں۔

پارٹی نے مزید کہا کہ عسکری ترجمان کی پریس بریفنگ میں ایک صوبے اور ایک سیاسی جماعت سے متعلق دکھائی جانے والی تصاویر اور تقاریر ملک کے دفاعی ادارے کے شایانِ شان نہیں تھیں۔

پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہے، آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

پارٹی نے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کو پریس کانفرنسوں میں لانا عدم استحکام کو مزید ہوا دے گا۔

پی ٹی آئی نے زور دیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے پر قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رہنا ناگزیر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اندرونی سیاسی اختلافات کے باوجود پی ٹی آئی نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے معاملات میں ریاست کا ساتھ دیا ہے، اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔

پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ جب بھی ملک کو بیرونی خطرات یا سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہر فورم پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور حکومت کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کیا۔

کارٹون

کارٹون : 8 جنوری 2026
کارٹون : 7 جنوری 2026